شوگر ختم کرنے والے فروٹ

شوگر ایک ایسا مرض ہے جس کی تشخیص مریض کو ان گنت نعمتوں اور مختلف قسم کی غذائی لذتوں سے منہ موڑنے کے احکامات جاری کردیتی ہے خاص طور پر چینی سے بنی چیزوں کے۔۔۔ اور جب بات ہو پھلوں کی تو ان کا ذکر ہی منہ میں شیرینی سی گھول دیتا ہے چونکہ پھلوں میں ایک خاص قسم کی شکر پائی جاتی ہے اور ماہرین کے مطابق اس کا استعمال شوگر کے مریضوںسمیت موٹاپے کا شکار افراد کی صحت پربھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ ایسے مریضوں کو پھلوں کے استعمال میں خاص احتیاط کی تاکید کی جاتی ہے۔۔۔ تو پھر سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا شوگر کے مریض ہر قسم کے پھلوں سے منہ موڑ لیں؟ یا پھر وہ کون سے مخصوص پھل ہیں جن کا استعمال شوگر کے مریضوںکی مجموعی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ خون میں انسولین کا لیول بھی درست رکھنے کا کام سر انجام دیں گے۔۔۔تو آج کی اس ویڈیو میں ہم اسی پر بات کرنے والے ہیں کہ شوگر کے مریض کو کونسے پھل اور سبزیاں کھانی چاہیں تو مکمل تفصیلات جاننے کیلئے یہ ویڈیو آخر تک دیکھیے گا اور اگر ویڈیو پسند آئے تو لائک کر کے ہمارے چینل کو سبسکرائب کر دیجیے گا۔ مالٹے،سنگترے:طبی سائنس مالٹے اور سنگترے جیسے ترش پھلوں کو بھی شوگر کے مریضوں کے لئے مفید قرار دیتی ہےان کے نزدیک شوگر کے شکار افراد کے جسموں میں وٹامن سی کی مقدار میں کمی آجاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ مالٹے، گریپ فروٹ، لیموں کینو یا اسی قسم کے دیگر اینٹی آکسائیڈنٹس پھل بہترین انتخاب ثابت ہوتے ہیں، جو شوگر ٹائپ ٹو کو کنٹرول میں رکھتے ہیں۔ ترشاہوا پھل :کیلی فورنیا یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے نتائج کے مطابق ترشاواپھل شوگر کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہے یہی نہیں امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ ترش پھل موٹاپے کو کم کرنے کے ساتھ دل ، جگر کی بیماری اور شوگر سے بچاؤ میں بھی مفید ہیں۔۔۔ترش پھل میں وٹامن سی اور غیر تکسیدی مادوں مثلاً اینٹی آکسیڈینٹس اجزاءسے بھرے ہوتے ہیں اور یہ غیر تکسیدی مادے فری ریڈیکلز کے خلاف حفاظت کرتے ہیں۔ چکوترا:اگر آپ کو شوگر ہےتو چکوترا تمام پھلوں میں آپ کے لئے بہترین ہے۔۔۔کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ماہرین کے نزدیک چکوترے کا استعمال جسم میں موجود مضر صحت شوگر میں کمی کا موجب بنتا ہے۔۔۔اس میں موجود وٹامن سی ،وٹامن اے ، فولاد، فاسفورس اور چونا کی بڑی مقدار شوگر کے مریضوں کے مدافعتی نظام کو تقویت پہنچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔۔۔ ماہرین چکوترا کی بے پناہ خصوصیات کے باعث شوگر کے مریضوں کو عام طور پر روزانہ آدھا گریپ فروٹ چوسنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جامن:کیا آپ جانتے ہیں جامن میں شوگر سمیت کئی بیماریوں کا علاج پوشیدہ ہے؟ جامن سرد اور خشک مزاج رکھنے والاپھل ہے اور اس موسم میں یہ عام مل بھی جاتا ہے۔۔۔اس کا متواتر استعمال شوگر کی بیماری میں بے حد فائدہ مند ہے ۔۔۔اگر شوگر کے مریض جامن کا رس اور آم کا رس ہم وزن ملا کر استعمال کریںتو شوگر کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔۔۔ ساتھ ہی یہ ایک عمدہ غذا کا کام کرتا ہے۔۔ ۔جامن کے علاوہ اس کے پھول بھی پانی میں رگڑ کر پینے سے مریض کو فائدہ ہوتا ہے۔ آڑو:آڑو میں وٹامن اے اور سی کی وافر مقدار پائی جاتی ہے یہی نہیں آڑو پوٹاشیم اور فائبر کی بھی اچھی خاصی مقدار رکھنے والاپھل ہے ۔۔۔ یہ مزیدار پھل جسم کی زائد چربی گھول دیتا ہے ۔۔۔ آڑوفائبر اور پوٹاشیم سے مالامال ہے ۔۔۔شوگر کے مریضوں کو یہ پھل کھانے کا اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کیونکہ اس کے استعمال سے جسم میں شوگر لیول نیچے رہتا ہے۔ سر خ ایرانی انگور:ماہرین شوگر کے مرض میں سرخ انگور کھانے کا مشورہ دیتے ہیں امریکی ماہرین کے تحقیقی نتائج کے مطابق سرخ انگوروں میں ایسے کئی اجزا دریافت کئے گئے ہیںجو موٹاپا، امراضِ قلب اور شوگر کی ٹائپ ٹو کو نہ صرف روکتے ہیں بلکہ ان امراض کے علاج میں بھی مفید ہیں۔۔۔غیر ملکی جریدے ’’ڈائیبٹیس،، میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے تحقیقی نتائج میں شوگر کے مریضوں کے لئے دو مفید پھلوں کا ذکر کیا گیا ان دو پھلوں میں سے ایک سرخ انگور ہیں۔ بیریز:بیریز ایک ایسا پھل ہے جس میں موجود فائبر اور کئی اقسا م کے وٹامنز شوگر کے مریضوں کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔۔۔ ماہرین کے نزدیک بیریزایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔۔۔ جس کے باعث شوگر کے مریضوں کو دن میں تین چوتھائی کپ بیریز کی اجازت دی جاسکتی ہے۔۔۔ بیریز میںکرانس بیری، رس بیری اور بلیو بیری کا استعمال شوگر کے مریضوں کے لئے سود مند ثابت ہوتا ہے۔ رس بھری:سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ رس بھری ایک ایسا پھل ہے جو آپ کی شوگر کو بڑھنے سے روک سکتا ہے۔۔۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”رس بھری میں اینتھوسیانینز (Anthocyanins) نامی اینٹی آکسیڈنٹ پایا جاتا ہے۔۔۔ جو انسولین کی مزاحمت اور حساسیت کو بڑھا سکتا ہے۔ ۔۔تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ روزانہ 160ملی گرام رس بھری کھانے سے بلڈشوگر لیول میں 8.5فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔“رپورٹ کے مطابق اس تحقیق کے نتائج ویب سائٹ Diabetes.co.uk پر شائع کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ رس بھری کے علاوہ اس نوع کے دیگر پھل، چیری، بلیو بیری، سٹرابری اور بلیک بیری وغیرہ بھی بلڈشوگرلیول کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں تاہم دوسری قسم کی شوگر کے مریضوں کے لیے رس بھری ہی سب سے بہترین ہے۔۔۔ یہ پھل شوگر کی وجہ سے لگنے والی پیاس، نیند کے مسائل، جلد کے امراض اور غیرمستحکم بھوک سے بھی نجات دلانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اب بات کرتے ہیں کہ کون کونسی سبزیاں شوگر میں کھانا فائدہ مند ہے۔ ٹماٹر:ٹماٹر دراصل سبزی کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے اور پھل کے طور پر بھی۔۔۔ٹماٹر لائکوپین سے بھرپور ہوتے ہیں، یہ طاقتور جز کینسر، امراض قلب اور پٹھوں کی تنزلی وغیرہ جیسے امراض کا خطرہ کم کرتا ہے، تاہم شوگر کے مریض اگر اسے روزانہ دو سو گرام تک استعمال کریں تو اس سے گلوکوز لیول معمول پر رہتا ہے اور بلڈپریشر بھی کم ہوجاتا ہے جبکہ اس سے ٹائپ ٹو ذیابیطس سے منسلک امراض قلب کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔ چقندر:چقندر میں کاربوہائیڈریٹ کی کمی پائی جاتی ہے لیکن اس میں وٹامن، فائبر فائیٹو نیوٹرینٹ کی مقدار پائی جاتی ہے۔۔۔چقندر سے لئیوپک ایسیڈ بھی ملتا ہے جس کے باعث جسم میں زہریلے جراثیم ختم ہوجاتے ہیں۔ کریلے:کریلا ایک ایسی سبزی ہے جو بہت کم افراد کو ہی پسند ہوتی ہے لیکن اگر اس کیساتھ قیمہ ملا لیا جائے تو پھر اکثر لوگ ہی پسند کرتے ہیں۔۔۔ تاہم مختلف طریقوں سے اسے پکا کر کڑواہٹ کو کم کرکے اسے مزیدار بنایا جاسکتا ہے۔۔۔ کریلا کھانے سے جسم کے اندر ایک کیمیائی ردعمل پیدا ہوتا ہے جو بلڈ گلوکوز کی سطح کم کرنے کے ساتھ انسولین کی سطح کو کنٹرول میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔۔۔ ایک کریلا، چٹکی بھر نمک، ایک چٹکی کالی مرچ جبکہ ایک یا 2 چمچ لیموں کا عرق لیں۔۔۔ کریلے کو اچھی طرح دھو کر اس کا عرق نکال لیں، اس میں نمک، کالی مرچ اور لیموں کے عرق کا اضافہ کردیں۔۔۔ اس مکسچر کو نہار منہ خالی پیٹ پینا عادت بنالیں، جس سے بلڈ شوگر لیول کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ میتھی:میتھی دانہ صحت کے لیے متعدد فوائد کا حامل ہوتا ہے اور اس سے تیار کردہ پانی بلڈ شوگر لیول کو مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔۔۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق میتھی دانے میں حل ہونے والے فائبر کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ خوراک ہضم ہونے اور کاربوہائیڈریٹس کے جذب ہونے کے عمل کو سست کرکے بلڈ شوگر لیول کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔۔۔ اس مقصد کے لیے میتھی دانے کی چائے مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔۔۔ اس مقصد کے لیے ڈھائی گرام میتھی دانے کو مصالحہ کوٹنے والے برتن میں ڈال کر کوٹ لیں اور پھر ایک کپ میں ڈال کر اسے 8اونس گرم پانی سے بھرلیں۔۔۔ اس کے بعد چمچ سے اچھی طرح چائے کو ہلائیں اور کچھ ٹھنڈا ہونے کے بعد پی لیں۔ جو کا دلیہ:شوگر کے شکار افراد کے لیے دلیے کا استعمال بلڈ شوگر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہترین ثابت ہوتا ہے، جو کے دلیے میں پائے جانے والے اجزاء شوگر کے شکار افراد کے لیے فائدہ مند اثرات رکھتے ہیں، یہ دلیہ دل کی صحت کو بھی بہتر بناتا ہے اور روزمرہ کی خوراک میں موجود گلوکوز کے جسم میں جذب ہونے کی رفتار کو بھی سست کردیتا ہے، تاہم چینی ڈالنے سے گریز کرنا بہتر ہوتا ہے۔ ادرک:ادرک انسانی جسم میں موجود خون میں چینی کی مقدار قابو میں رکھتی ہے جس سے شوگر کا خطرہ کم ہوتا ہے۔ پالک:پالک ان چند سبزیوں میں سے ایک ہے جو شوگر میں مبتلا ہونے کا خطرہ ٹالنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔۔۔ جو لوگ روزانہ کچھ مقدار میں پالک کا استعمال کرتے ہیں ان میں شوگر کا خطرہ اس سبزی سے دور بھاگنے والوں کے مقابلے میں 14فیصد کم ہوتا ہے۔۔۔ اس سبزی میں وٹامن کے، میگنیشیم، پوٹاشیم، زنک اور دیگر منرلز بھی موجود ہوتے ہیں جو عام صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔ سبزیوں اور پھلوں کے علاوہ۔۔۔ ہلدی دار چینی، زیتون کا تیل ، اخروٹ اور مچھلی وغیرہ بھی شوگر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہیں۔ تو معزز خواتین و حضرات ! ان تمام اشیاء کو اپنے استعمال میں لاکر ان سے خوب فائدہ اٹھائیں اور اس ویڈیو کو فیس بک اور واٹس ایپ پر اپنے چاہنے والوں سے شیئر کر کے اس صدقہ جاریہ میں ہمارا ساتھ دیں۔

چالیس فرمان

ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہانے جب انگریز یہاں برصغیر پاک و ہند میں داخل ہوا تو آہستہ آہستہ ایک ایک کر کے تمام ریاستوں پر قابض ہوتا گیا۔۔۔ انگریز نے صرف اس زمینی ٹکڑے پر قبضہ نہیں کیا بلکہ یہاں کے لوگوں کو ذہنی طور پر بھی اپنا غلام بنا کے رکھ دیا۔۔۔ خاص طور پر مسلمانوں کے ساتھ بہت امتیازی سلوک روا رکھا گیا۔۔۔ مسلمانوں کو ذہنی طور پر یہ باور کرایا گیا کہ تم ہمیشہ سے ہی ایک فضول قوم ہو جسے کچھ نہیں آتا۔۔۔ مسلمانوں کی بے شمار ایجادات کو بڑی چالاکی سے غیر مسلموں کے ناموں سے منسوب کرنا شروع کر دیا۔۔۔ دور بین گلیلیو کی ایجاد نہیں بلکہ ابراہیم بن جندب کی ایجاد ہے۔۔۔ کششِ ثقل کا نظریہ نیوٹن کا نہیں بلکہ ابن الہیثم کا پیش کردہ ہے۔۔۔ کیمرہ ابن الہیثم کی ایجاد ہے۔۔۔ نظامِ دورانِ خون ولیم ہاروے نے نہیں ابنِ نفیس نے بتایا تھا۔۔۔ سرجری کے آلات ابولقاسم نے ایجاد کیے جو آج بھی ہسپتالوں میں استعمال ہوتے ہیں۔۔۔میڈیسن کو کیپسول میں ڈال کر دینا ابوالقاسم زہراوی نے ہی شروع کیا تھا۔۔۔ سب سے پہلا ہسپتال مسلمانوں نے ہی بنایا تھا۔۔۔یہ ایک بہت لمبی تفصیل ہے جس پربہت سے لوگ بحث کر چکے ہیں ۔۔۔ بات ہو رہی ہے آج کی کہ آج بھی ہم میں ایسے نام نہاد دانشور موجود ہیں جو ہمیں احساسِ کمتری میں مبتلا کرنے میں لگے ہوئے ہیں جو کہتے ہیں مسلمانوں نے تو ایک وائپر تک ایجاد نہیں کیا۔۔۔آج کی میڈیکل سائنس اپنے محسنوں کوبھولی ہوئی ہے ۔۔۔ بو علی سینا کا قانون یورپ کی یونیورسٹیوں میں پانچ سو سال تک پڑھایا جاتا رہا ہے۔۔۔ ہم نے ہی ان کو علاج کرنا سکھایا ہے اور آج یہ ہماری ہی طب کے خلاف بولتے ہیں۔۔۔ فارسی کی جگہ انگریزی زبان کو رواج دیا گیا۔۔۔ یہاں کے لوگوں کو ایسی تعلیم دی جانے لگی جس سے ان میں قومی تصور ختم ہو اور ان کی تعلیم اس طرح کی ہو جس سے یہ صرف نوکریاں حاصل کریں اور ذہنی طور پر ہمارے غلام بن کر رہیں۔۔۔ لارڈ میکالے کی تعلیمی پالیسیاں اسی سوچ کی عکاس ہیں۔۔۔بدقسمتی سے آج بھی ہماری حکومتیں یہی کہتی نظر آتی ہیں کہ جڑی بوٹیوں کو تلف کر دو یہ فصل کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔۔۔ ارے بھائی ان جڑی بوٹیوں کے جو فوائد ہیں ان کا کیا ؟ مزید تفصیل میں جانے سے پہلے اس ویڈیو کو لائک کر لیں، ہمارا چینل سبسکرائب کریں اور گھنٹی کا بٹن دبا دیں۔ اٹھارہویں صدی کے بعد جب مسلم حکومتوں کو زوال آیا تو انگریز حاکموں نے ایلوپیتھی کوفروغ دینے کے لیے 1910ء میں طب کو غیر قانونی قرار دینے کا فیصلہ کیا تاکہ یہاں کے محکوم لوگ ہر شعبہ زندگی میں ان کے محتاج بن کر رہ جائیں اس دور میں نامور اطباء اپنے آباؤ اجداد کے فن کو بچانے کیلئے حکیم محمد اجمل خان کی قیادت میں میدان عمل میں نکل آئے اور ملک گیر تحریک چلا کر انگریزوں کو غلط قانون واپس لینے پر مجبور کر دیا۔ طب مشرق میں آج اس زوال کے دور میں بھی جہاں ایلوپیتھی بہت سی امراض کو لاعلاج قرار دیتی ہے وہیں حکیم اس کا کامیاب علاج کرتے ہیں۔۔۔میں ان شاء اللہ اس پر علیحدہ سے ایک ویڈیو بناؤں گا کہ ایلو پیتھی نے جن امراض کو لاعلاج قرار دے دیا تھا وہ کیسے ختم ہو گئے اور رپورٹس دیکھ کر ڈاکٹرز ماننے کو تیار نہیں تھے کہ ایسا ممکن ہے یہ تو صرف ایک معجزہ ہی ہو سکتا ہے اور اللہ نے وہ معجزہ کر کے دکھایا کیونکہ اللہ نے کبھی بھی کوئی ایسی بیماری پیدا نہیں کی جس کا پہلے علاج نہ پیدا کیا ہو۔۔۔ آج بھی اگر ہمارا گلاس آدھا خالی ہے تو آدھا بھرا ہوا بھی ہے، اور اس کے آدھے ہونے میں اسی مافیا کا ظلم و ستم شامل ہے۔۔۔ جس طرح برطانوی طریقہ علاج کو فروغ دیا گیا اور سرکاری سرپرستی کی گئی اس کا عشرِ عشیر بھی دیسی طب پر صرف نہ کیا گیا بلکہ اسے فضول سمجھ کر رد کیا گیا۔۔۔ اتنی لمبی چوڑی تمہید کا اصل مقصد آپ کو یہ بتانا تھا کہ کچھ عرصہ قبل میں نے ایک مضمون پڑھا جس میں زندگی کو خوبصورت بنانے کے چالیس اصول درج تھے۔۔۔ اس نے وہ اصول انگریزوں کی مختلف کتب سے لیے تھے لیکن جب اس نے اس پر تحقیق کی تو وہ سارے کے سارے قرآن و سنت سے ماخوذ تھے اور انگریزوں نے انہیں اپنے بنا کے پیش کیا ہوا تھا۔۔۔ یعنی نبی ﷺ کے فرمانوں کا اپنا نام دے کر شائع کر دیا۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔۔ ان لوگوں نے ہماری کتب کے ترجمے کیے اور اپنے نام سے شائع کر دیے اور ہماری اکثریت کو اس کا علم ہی نہیں ہوتا اور ہم ہمیشہ یورپ کی ترقی کا راگ الاپتے رہتےہیں جو خود اسلام کے بنائے اصولوں پر چل رہے ہیں اور ہم اپنی بد عنوانی و بددیانتی میں ان اصولوں کو چھوڑ چکے ہیں۔ تو چلیں نبی کریم ﷺ کے بتائے ان چالیس اصولوں پر سائنسی حوالے سے بات کرتے ہیں تا کہ آپ بھی ان کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر کامیاب زندگی گزار سکیں۔ آپؐ نے فرمایا فجر اور اشراق، عصر اور مغرب اور مغرب اور عشاء کے دوران سونے سے باز رہا کرو۔ اس فرمان میں بے شمار طبی حکمتیں پوشیدہ ہیں، مثلاً آج میڈیکل سائنس نے ڈسکور کیا کہ کرہ ارض پر فجر اور اشراق کے دوران آکسیجن کی مقدار سب سے زیادہ ہوتی ہے، ہم اگر اس وقت سو جائیں تو ہم اس آکسیجن سے محروم ہو جاتے ہیں اور یوں ہماری طبیعت میں بوجھل پن آ جاتا ہے، ہم آہستہ آہستہ چڑچڑے اور بیزار ہو جاتے ہیں، عصر سے مغرب اور مغرب سے عشاء کے درمیان بھی آکسیجن کم سے کم تر ہوتی چلی جاتی ہے۔۔۔ہم اگراس وقت بھی سو جائیں تو ہمارا جسم آکسیجن کی کمی کا شکار ہو جاتا ہے اور ہم دس مہلک بیمایوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، دمہ بھی ان دس بیماریوں میں شامل ہے چنانچہ آپ یہ اوقات جاگ کر گزاریں،آپ پوری زندگی صحت مند رہیں گے، میرا تجربہ ہے ہم اگر ان تین اوقات میں واک کریں تو ہماری طبیعت میں بشاشیت آ جاتی ہے۔ آپؐ نے فرمایا ،بدبودار اور گندے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھا کرو۔۔۔یہ حکم بھی حکمت سے لبالب ہے، بدبو انسان کو ڈپریس کرتی ہے جب کہ خوشبو ہماری توانائی میں اضافے کا باعث بنتی ہے، انسان اگر روزانہ دس منٹ بدبودار اور گندے لوگوں میں بیٹھنا شروع کر دے تو یہ بیس دنوں میں ڈپریشن کا شکار ہو جائے گا، ہمارے رسولؐ نے ہمیں شاید اسی لیے بدبودار لوگوں سے پرہیز کا حکم دیا،آپ بھی یہ کر کے دیکھیں آپ کا مزاج بدل جائے گا۔ آپؐ نے فرمایا ان لوگوں کے درمیان نہ سوئیں جو سونے سے قبل بری باتیں کرتے ہیں۔۔۔یہ فرمان بھی حکمت کے عین مطابق ہے، آج سائنس نے ڈسکور کیا کہ نیند سے قبل ہماری آخری گفتگو ہمارے خوابوں کا موضوع ہوتی ہے اور یہ خواب ہمارے اگلے دن کا موڈ طے کرتے ہیں، ہم اگر بُرا سن کر سوئیں گے تو ہم برے خواب دیکھیں گے اور ہمارے برے خواب ہمارے آنے والے دن کا موڈ بن جائیں گے، ہم خوابوں کے طے کردہ موڈ کے مطابق دن گزارتے ہیں چنانچہ نیند سے قبل ہماری آخری محفل اچھی ہونی چاہیے،ہمارا اگلا دن اچھا گزرے گا۔ فرمایا تم بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔۔۔یہ فرمان بھی عین سائنسی ہے،ہمارے دماغ کے دو حصے ہیں، دایاں اور بایاں، دایاں حصہ مثبت اور بایاں منفی ہوتا ہے، ہم جب اپنے جسم کو دائیں ہاتھ سے ’’فیڈ،، کرتے ہیں تو ہماری مثبت سوچ مضبوط ہوتی ہے اور ہم جب اپنے بدن کو بائیں ہاتھ سے کھلاتے ہیں تو ہماری منفی سوچ طاقتور ہوتی چلی جاتی ہے، آپ مشاہدہ کر لیں آپ کو بائیں ہاتھ سے کھانے والے اکثر لوگ منفی ملیں گے، یہ آپ کو ہمیشہ شکوہ شکایت، غیبت اور دوسروں کو نقصان پہنچاتے نظر آئیں گے۔ فرمایا منہ سے کھانا نکال کر نہ کھاؤ۔۔۔یہ فرمان بھی سائنس سے مطابقت رکھتا ہے، ہمارے منہ میں دس کروڑ سے ایک ارب تک بیکٹیریا ہوتے ہیں، یہ بیکٹیریا مہلک جراثیم بن جاتے ہیں،یہ جراثیم ہمارے کھانے میں مل جاتے ہیں، یہ کھانا معدے میں جاتا ہے تو معدے کے غدود ان جراثیم کو مار دیتے ہیں یوں یہ ختم ہو جاتے ہیں لیکن جب ہم جراثیم ملے کھانے کو منہ سے نکال لیتے ہیں تو ان جراثیم کو آکسیجن مل جاتی ہے، یہ آکسیجن سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ان جراثیم کی تعداد کھربوں تک پہنچا دیتی ہے، یہ جراثیم معدے کے غدودوں سے بھی طاقتور ہوجاتے ہیں۔۔۔ ہم جب منہ سے نکلے لقمے کو دوبارہ منہ میں رکھتے ہیں تو یہ لقمہ معدے میں پہنچ کر زہر بن جاتا ہے اور یہ زہر ہمارے پورے نظام ہضم کو تباہ کر دیتا ہے، آپ کو زندگی میں کبھی کوئی ایسا شخص صحت مند نہیں ملے گا جسے منہ سے لقمہ نکال کر کھانے کی عادت ہو جب کہ آپ کو ہونٹ بھینچ کر اور آواز پیدا کیے بغیر کھانے والے لوگ ہمیشہ صحت مند ملیں گے۔ ہمارے رسول ؐ نے فرمایا ہاتھ کے کڑاکے نہ نکالاکرو۔۔۔ سائنس کا کہنا ہے ہم میں سے جو لوگ انگلیوں کے کڑاکے نکالتے رہتے ہیں ان کے جوڑ کھلنا شروع ہو جاتے ہیں اور یہ جلد اتھرائٹس کا شکار ہو جاتے ہیں، یہ جوڑوں کے درد کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ فرمایا جوتا پہننے سے قبل اسے جھاڑ لیا کرو۔۔۔ہماری زندگی کے عام واقعات میں کیڑے مکوڑے، بچھو، چھپکلیاں، چھوٹے سانپ اور بھڑیں ہمارے جوتوں میں پناہ لے لیتی ہیں، ہمارے بچے بھی جوتوں میں کیل، کانٹے اور بلیڈ پھینک دیتے ہیں چنانچہ ہم جب جوتا پہنتے ہیں تو ہمارے پاؤں زخمی ہو جاتے ہیں یا پھر ہمیں کیڑے مکوڑے کاٹ لیتے ہیں لہٰذا جوتا پہننے سے قبل اسے جھاڑ لینا ہمیشہ فائدہ مند رہتا ہے۔ فرمایا نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو،یہ فرمان بھی درست ہے۔۔۔آسمان میں ایک وسعت ہے، یہ وسعت ہمیشہ ہماری توجہ کھینچ لیتی ہے، ہم جب بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ہماری توجہ بٹ جاتی ہے،ہمیں توجہ واپس لانے میں ٹھیک ٹھاک وقت لگتا ہے، نماز کے لیے یکسوئی درکار ہوتی ہے، ہم جب نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہم سجدے اور رکوع بھول جاتے ہیں چنانچہ حکم دیا گیا نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو، یہ فارمولہ تخلیقی کاموں کے لیے بھی اہم ہے۔۔۔اگر لکھاری لکھتے، مصور تصویر بناتے اور موسیقار دھن بناتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ لے تو اس کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے،یہ اپنا کام مکمل نہیں کر پاتا شاید یہی وجہ ہے دنیا کا زیادہ تر تخلیقی کام بند کمروں میں مکمل ہوا، یہ کھلی فضا میں پروان نہیں چڑھا، دنیا کا ہر ماسٹر پیس بند کمرے میں تخلیق ہوا۔۔۔ آپ تخلیق کا آئیڈیا لینا چاہتے ہیں تو آپ کھلے آسمان کے نیچے کھلی فضا میں واک کریں، آپ آئیڈیاز سے مالامال ہو جائیں گے لیکن آپ اگر ان آئیڈیاز پر کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کمرے میں بند ہو جائیں، آپ کمال کر دیں گے، آپ کو انبیاء، اولیاء اور بزرگان دین بھی بند غاروں میں مراقبے کرتے ملیں گے۔ آپؐ نے فرمایا رفع حاجت کی جگہ (ٹوائلٹ) مت تھوکو۔۔۔ یہ حکم اپنے اندر دو حکمتیں رکھتا ہے، ٹوائلٹ میں تھوکنے سے بعد میں آنے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور دوسرا ٹوائلٹس میں لاکھوں قسم کے جراثیم بھی ہوتے ہیں، ہم جب تھوکنے کے لیے منہ کھولتے ہیں تو یہ جراثیم ہمارے منہ میں پہنچ جاتے ہیں، یہ ہمارے لعاب دہن میں پرورش پاتے ہیں،یہ معدے اور پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں اورپھر یہ ہمیں بیمار کر دیتے ہیں۔۔۔آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی ہماری ناک جراثیم کو پھیپھڑوں تک نہیں جانے دیتی، ہماری ناک سے صرف کیمیکلز جسم میں داخل ہوتے ہیں، جراثیم زیادہ تر منہ سے بدن میں اترتے ہیں اور ان کا بڑا سورس ٹوائلٹس ہوتے ہیں چنانچہ آپ ٹوائلٹ میں لمبی لمبی سانس لینے، تھوکنے، گانا گانے، آوازیں دینے اورموبائل فون پر بات کرنے سے پرہیز کریں، آپ کی صحت اچھی رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو۔۔۔ ہم میں سے بے شمار لوگ کوئلے سے دانت صاف کرتے ہیں، کوئلے سے ہمارے دانت وقتی طور پر چمک جاتے ہیں لیکن یہ بعد ازاں مسوڑے بھی زخمی کر دیتاہے، دانتوں کی جڑیں بھی ہلا دیتا ہے اور یہ منہ میں بو بھی پیدا کرتا ہے، لکڑی کا کوئلہ سیدھا سیدھا کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتا ہے، یہ ’’ہائی جینک،، بھی نہیں ہوتا چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پرہیز کا حکم دیا۔ آپؐ نے فرمایا ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کیا کرو۔۔۔ ہم میں سے اکثر لوگ شلوار، پتلون یا پائجامہ پہنتے وقت اپنی ٹانگ پھنسا بیٹھتے ہیں اور گر پڑتے ہیں، ہم میں سے ہر شخص زندگی میں کبھی نہ کبھی اس صورتحال کا شکار ضرور ہوتا ہے بالخصوص ہم بڑھاپے میں شلوار یا پتلون بدلتے وقت ضرور گرتے ہیں، آپؐ نے شاید اس قسم کے حادثوں سے بچنے کے لیے ہی یہ حکم جاری فرمایاتھا۔ آپؐ نے فرمایا اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو۔۔۔ ہم لوگ اکثر بادام، اخروٹ یا نیم پکا گوشت توڑنے کی کوشش میں اپنے دانت تڑوا بیٹھتے ہیں، دانت ایکٹو زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتے ہیں، آپؐ نے شاید اسی لیے دانتوں کو سخت چیزوں سے بچانے کا حکم دیا۔ ہماری کل کی ویڈیو میں ہم نے حضور ﷺ کے بتائے چالیس اصولوں میں سے چند کا ذکر کیا تھا اور سائنسی نقطہ نظر سے اس پر روشنی ڈالی تھی باقی انشاء اللہ آج کریں گے۔۔۔ تو آپ کو وہ اصول بتاتے ہیں لیکن پہلے۔۔۔ خوراک تہذیب کا تیسرا بڑا عنصر ہوتی ہے، آپ اگر کسی قوم، کسی خاندان یا کسی شخص کی تہذیب کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں تو آپ صرف اتنا دیکھ لیں وہ کیا کھا رہا ہے اور کیسے کھا رہا ہے آپ کو مزید تحقیق کی ضرورت نہیں رہے گی، ہمارے رسولؐ کے بہترین زندگی کے چالیس اصولوں میںسے سات اصول صرف کھانے سے متعلق ہیں، آپؐ نے فرمایا گرم کھانے کو پھونک سے ٹھنڈا نہ کرو، پنکھا استعمال کر لیا کرو، یہ فرمان بھی ہائی جین پر بیس کرتا ہے، ہم جب گرم کھانے کو پھونک مارتے ہیں تو ہمارے منہ کے بیکٹیریا کھانے کو زہریلا بنا دیتے ہیں۔۔۔یہ حرکت تہذیب اور شائستگی کے منافی بھی ہے۔ فرمایا کھاتے ہوئے کھانے کو سونگھا نہ کرو، کھانے کو سونگھنا بدتہذیبی بھی ہوتی ہے اور کھانے کی خوشبو ہماری ناک کے اندر موجود سونگھنے کے خلیوں اور پھیپھڑوں کی دیواروں کو بھی زخمی کر دیتی ہے، ہمیں چھینک بھی آ سکتی ہے اور یہ چھینک سارے کھانے کو برباد کرسکتی ہے۔ فرمایا اپنے کھانے پر اداس نہ ہوا کرو، ہم عموماً کھانے کی مقدار اور کوالٹی پر اداس ہو جاتے ہیں، ہم ہمیشہ کھانا کھاتے وقت دوسروں کی پلیٹ کی طرف دیکھتے ہیں، یہ عادت ہمارے اندر ناشکری پیدا کرتی ہے، ہم اگر اپنے کھانے کو اللہ کا رزق سمجھیں، اس پر شکر کریں تو ہمارے اندر برداشت بھی بڑھے گی اور صبر اور شکر کی عادت بھی ڈویلپ ہو گی، یہ عادت ہماری زندگی کو بہتر بنا دے گی۔ فرمایا منہ بھر کر نہ کھاؤ، ہمارا منہ خوراک کے ہاضمے کا آدھا کام کرتا ہے باقی آدھا کام معدہ سرانجام دیتا ہے، ہم جب منہ بھر لیتے ہیں تو زبان اور دانتوں کو اپنا کام کرنے کے لیے جگہ نہیں ملتی، ہم جلدی جلدی نگلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یوں ہمارے معدے کی ذمے داری بڑھ جاتی ہے،معدہ یہ ذمے داری پوری نہیں کر پاتا، ہم بدہضمی کا شکار ہو جاتے ہیں، ہمارے رسول ؐ ہمیشہ چھوٹا لقمہ لیتے تھے، دیر تک چباتے تھے اور آدھا معدہ بھرنے کے بعد ہاتھ کھینچ لیتے تھے۔۔۔آپؐ پوری زندگی صحت مند رہے، آپؐ کے صحابہؓ نے بھی یہ عادت اپنا لی چنانچہ مدینہ کے طبیب بے روزگار ہو گئے اور وہ کھجوروں کی تجارت کرنے لگے۔ فرمایا اندھیرے میں مت کھاؤ، اس فرمان کی دو وجوہات ہیں، اندھیرے میںکھانا، کھانے سے کھانے میں کیڑے مکوڑے ملنے کا خدشہ ہوتا ہے اور دوسرا روشنی کا کھانے کے ساتھ گہرا تعلق ہوتا ہے، ہمیں روشنی میں کھایا ہوا کھانا زیادہ انرجی دیتا ہے، یہ وہ واحد وجہ ہے جس کی بنا پر دنیا بھر میں ڈنر کے وقت ہال اور کمرے کی تمام لائٹس آن کر دی جاتی ہیں، یہ ممکن نہ ہو تو میز پر موم بتیاں جلا دی جاتی ہیں، انگریز اس انتظام کو کینڈل لائٹ ڈنر کہتے ہیں، یہ روایت ہزاروں سال سے چلی آ رہی ہے اور یہ انتہائی مفید ہے، آپؐ نے بھی روشنی میں کھانے کا حکم دے کر اس روایت کی تائید فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا دوسروں کے عیب تلاش نہ کرو، ہم جب دوسروں میں عیب ڈھونڈتے ہیںتو ہم چغلی، غیبت اور منافقت جیسی روحانی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں، یہ بیماریاں ہمیں حسد جیسے مہلک مرض میں مبتلا کر دیتی ہیں اور یوں ہم ذہنی، جسمانی اور روحانی تینوں سطحوں پر علیل ہو جاتے ہیں چنانچہ ہم اگر صرف دوسروں میں عیب تلاش کرنا بند کر دیں تو ہم حسد، منافقت، غیبت اور چغل خوری جیسے امراض سے بچ جائیں گے اور صحت مند زندگی گزاریں گے۔ فرمایا اقامت اور اذان کے درمیان گفتگو نہ کیا کرو ۔۔۔اللہ کائنات کا سب سے بڑا بادشاہ ہے۔۔۔ اذان اس بادشاہ کی طرف سے بلاوا ہوتا ہے اور اقامت شرف بازیابی کی اجازت چنانچہ یہ دونوں اوقات پروٹوکول ہیں، اللہ تعالیٰ کو پروٹوکول کی خلاف ورزی اچھی نہیں لگتی، ہم اگر دنیاوی بادشاہوں کے پروٹوکول کا خیال رکھتے ہیں تو پھر ہمیں دنیا کے سب سے بڑے بادشاہ کے پروٹوکول کا سب سے زیادہ احترام کرنا چاہیے۔ فرمایا بیت الخلاء میں باتیں نہ کیا کرو، اس کی وجہ جراثیم ہیں۔۔۔بیت الخلاء یعنی ٹوئلٹ میںتھوکنے کی دو وجوہات ہیںاس کے اندر جو دو حکمتیں چھپی ہیں وہ بھی جان لیں۔ ۔۔ٹوائلٹ میں تھوکنے سے بعد میں آنے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور دوسرا ٹوائلٹس میں لاکھوں قسم کے جراثیم بھی ہوتے ہیں، ہم جب تھوکنے کے لیے منہ کھولتے ہیں تو یہ جراثیم ہمارے منہ میں پہنچ جاتے ہیں، یہ ہمارے لعاب دہن میں پرورش پاتے ہیں،یہ معدے اور پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں اورپھر یہ ہمیں بیمار کر دیتے ہیں۔ ۔۔آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی ہماری ناک جراثیم کو پھیپھڑوں تک نہیں جانے دیتی، ہماری ناک سے صرف کیمیکلز جسم میں داخل ہوتے ہیں، جراثیم زیادہ تر منہ سے بدن میں اترتے ہیں اور ان کا بڑا سورس ٹوائلٹس ہوتے ہیں چنانچہ آپ ٹوائلٹ میں لمبی لمبی سانس لینے، تھوکنے، گانا گانے، آوازیں دینے اور موبائل فون پر بات کرنے سے پرہیز کریں۔۔۔اس سے آپ کی صحت اچھی رہے گی۔ ہمارے رسولؐ دوستوں کو بہت اہمیت دیا کرتے تھے لہٰذا آپؐ نے فرمایا دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصے بیان نہ کیا کرو، دوستوں کے بارے میں جھوٹے قصوں سے دوستوں کی دل آزاری بھی ہوتی ہے اور دوست بدنام بھی ہوتے ہیں چنانچہ اس عادت بد سے پرہیز دوستی کے لیے بہت اہم ہے۔۔۔ فرمایا دوست کو دشمن نہ بناؤ، یہ فرمان نفسیات اور معاشرت دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے، ہمارے دوست ہماری تمام کمزوریوں سے واقف ہوتے ہیں، یہ جب دشمن بنتے ہیں تو یہ دنیا کے خوفناک ترین دشمن ثابت ہوتے ہیں چنانچہ ہمیں زندگی میں کبھی کسی دوست کو دشمن بنانانہیںچاہیے اور نہ کبھی کسی دوست کا دشمن بننا چاہیے۔۔۔ فرمایا دوستوں کے بارے میں شکوک نہ پالو ،شک دوستی کے لیے زہر ہوتا ہے،ہم جب دوستوں کے بارے میں مشکوک ہو تے ہیں تو دوستی کا دھاگہ کمزور ہو جاتا ہے چنانچہ شک سے بچنا ضروری ہوتا ہے۔ فرمایا چلتے ہوئے بار بار پیچھے مڑ کر نہ دیکھو، چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنا ایک نفسیاتی بیماری ہے۔۔۔ یہ بیماری خوفزدہ، ڈرے اور سہمے ہوئے لوگوں میں کامن ہے، ہم جب چلتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو ہم اس بیماری کا شکار ہوتے چلے جاتے ہیں۔۔۔پیچھے مڑ کر دیکھنے سے ہماری توجہ بھی بٹ جاتی ہے، ایکسیڈنٹ کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔۔۔ ہماری رفتار بھی آدھی رہ جاتی ہے اور ہم بلاوجہ دوسرے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ بھی کر لیتے ہیں۔ فرمایا ایڑھیاں مار کر نہ چلو۔۔۔ایڑھیاں مار کرچلنا یا چلنے کے دوران دھمک یا آواز پیدا کرنا تکبر کی نشانی ہے اور تکبر مسلمانوں کو سوٹ نہیں کرتا۔۔۔ ہمارے پاؤں کا ہمارے دماغ کے ساتھ بھی گہرا تعلق ہوتا ہے۔۔۔ ایڑھیاں مارنے سے ہمارے دماغ کی چولیں ہل جاتی ہیں۔۔۔ہم دماغی لحاظ سے کمزور ہو جاتے ہیں۔۔۔آپ کو ایڑھیاں مار کر چلنے والے جلد یا بدیر دماغی امراض کی ادویات کھاتے ملیں گے۔ فرمایا کسی کے بارے میں جھوٹ نہ بولو۔ جھوٹ دنیا کی سب سے بڑی معاشرتی برائی اور گناہوں کی ماں ہے۔۔۔ ہم اگر صرف جھوٹ بند کر دیں تو معاشرہ ہزاروں برائیوں سے پاک ہو جاتا ہے۔ فرمایا ٹھہر کر صاف بولاکرو تا کہ دوسرے پوری طرح سمجھ جائیں۔۔۔جھوٹ کے بعد غلط فہمی معاشرے کی سب سے بڑی برائی ہے۔۔۔ ہم جب گفتگو میں واضح نہیں ہوتے تو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور یہ غلط فہمیاں معاشرتی بگاڑ کا باعث بنتی ہیں چنانچہ ہم جب بھی بولیں بلند، واضح اور صاف بولیں۔ آپ ؐ نے فرمایا اکیلے سفر نہ کیا کرو،یہ فرمان بھی حکمت سے بھرپور ہے،اکیلا آدمی خوفزدہ بھی رہتا ہے۔۔۔ پریشان بھی اور یہ عموماً حادثوں کا شکاربھی ہو جاتا ہے۔۔۔ تحقیق سے ثابت ہوا سفر کے دوران اکیلے آدمی زیادہ لٹتے ہیں۔۔۔ زیادہ جلدی بیمار ہوتے ہیں اور یہ زیادہ غلط فیصلے کرتے ہیں چنانچہ جب بھی سفر کریں ایک یا دو لوگوں کو ساتھ شامل رکھیں بالخصوص عورت کو کبھی اکیلے سفر نہ کرنے دیں۔ فرمایا فیصلے سے قبل مشورہ ضرور کیا کرو، انسان 16کیمیکلز کا مجموعہ ہے۔۔۔ یہ کیمیکلز ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں۔۔۔ہم جب بھی تنہا فیصلے کرتے ہیں ہم موڈز کے تابع فیصلے کرتے ہیں اوریہ عموماً غلط ہوتے ہیں چنانچہ فیصلے سے قبل مشورہ ضروری ہے اور مشورہ ہمیشہ سمجھ دار کی بجائے تجربہ کار شخص سے کرنا چاہیے۔۔۔آپ کو کبھی نقصان نہیں ہوگا۔ فرمایا کبھی غرور نہ کرو۔۔۔ غرور ایک ایسی بری عادت ہے جس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلتا۔۔۔ میں نے پوری زندگی کسی مغرور شخص کو طبعی موت مرتے نہیں دیکھا۔۔۔یہ غیر طبعی موت مرتے ہیں اورہمیشہ بے عزتی اور ذلت وراثت میں چھوڑتے ہیں۔ فرمایا شیخی نہ بگھاڑو۔۔۔ یہ بھی کمال اصول ہے۔۔۔ میں نے آج تک کسی شیخی خور کو باعزت نہیں دیکھا۔۔۔ ہم عزت بڑھانے کے لیے شیخی مارتے ہیں اور ہمیشہ پرانی عزت بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔ فرمایا گدا گروں کا پیچھا نہ کیا کرو، ہم میں سے بے شمار لوگ فقیر کو دس بیس روپے دے کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں یہ واقعی حق دار تھا یا نہیں۔۔۔یہ عادت ہمیں شکی بھی بنا دیتی ہے اور یہ صدقے اور خیرات سے بھی دور کر دیتی ہے۔ فرمایا مہمان کی کھلے دل سے خدمت کرو۔۔۔ یہ عادت ہماری شخصیت میں کشش پیدا کر دیتی ہے۔۔۔ آپ کو مہمان نوازوں میں ہمیشہ مقناطیسی کشش ملے گی۔۔۔آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا غربت میں صبر کیا کرو۔۔۔ یہ فرمان بھی کیا شاندار فرمان ہے۔۔۔صبر بہت بڑی دولت ہے، یہ دولت کبھی کسی انسان کو غریب نہیں رہنے دیتی۔۔۔ آپ صابر ہو جائیں آپ کے حالات دنوں میں بدل جائیں گے۔۔۔آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا اچھے کاموں میں دوسروں کی مدد کیا کرو، اچھائی نیکی ہوتی ہے اور نیکی میں دوسروں کا ساتھ دینے والے بھی جلد نیک ہو جاتے ہیں۔۔۔آپ صرف نیک لوگوں کے معاون بن جائیں آپ نیکوں سے بھی آگے نکل جائیں گے۔ فرمایا اپنی خامیوں پر غور کیا کرو اور توبہ کیا کرو۔۔۔ تحقیق بتاتی ہے ہم اگر اپنی کسی ایک خامی پر قابو پا لیں تو ہم میں دس خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔۔۔ آپ یہ بھی آزما کر دیکھ لیں۔ فرمایا برا کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ نیکی کرو۔۔۔ یہ بھی آزما کر دیکھیں۔۔۔ یہ عادت آپ کے دشمنوں کی تعداد کم کر دے گی۔ فرمایا اللہ نے جو دیا ہے اس پر خوش رہو۔۔۔ میرا تجربہ ہے ہم دوسرے پرندے کی کوشش میں ہاتھ کا پرندہ بھی اڑا بیٹھتے ہی۔۔۔ہمیں جو مل جائے ہم اگر اسے انجوائے کرنا سیکھ لیں تو یہ دنیا جنت ہو جاتی ہے۔ فرمایا زیادہ نہ سویا کرو۔۔۔زیادہ نیند یادداشت کو کمزور کر دیتی ہے۔۔۔یہ بھی طبی لحاظ سے درست ہے۔۔۔ نیند موت کی پچھلی اسٹیج ہے۔۔۔یہ بڑھ جائے تو ہمارے برین سیل مرنے لگتے ہیں چنانچہ سات گھنٹے سے کم اور آٹھ گھنٹے سے زیادہ نیند نہیں لینی چاہیے اورآخری فرمان فرمایا روزانہ کم از کم سو بار استغفار کیا کرو۔۔۔ یہ عادت بھی عبادت ہے۔۔۔آپ کر کے دیکھیں۔۔۔آپ کو نتائج حیران کر دیں گے۔۔۔انشاء اللہ تعالیٰ آقاﷺ کے ان اصولو ں پر مزید بات چلتی رہیں گی۔

ٹماٹر کے فائدے

ٹماٹر جو کہ اصل میں پھل ہے سبزی نہیں ہے، اپنے اندر بے شمار فوائد رکھتا ہے سچ تو یہ ہے کہ یہ کئی غذائیت بخش پروڈکٹس (Products) کا حصہ ہیں اور چونکہ اس کو کئی طریقوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے اس لیے اس کو دستر خوان سے دور رکھنے کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی، ٹماٹر کھانے کا سب سے بڑا فائدہ اس میں موجود لائکوپین Lycopene ہے۔۔۔ یہ ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ (antioxidant) ہے جو کہ سرطان کے سیل (cell) کو بننے سے روکتا ہے اور انسانی صحت کو درپیش مسائل اور بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے، انسانی جسم میں موجود مضر صحت فری ریڈیکل سیل لائکوپین کے ساتھ جسم سے خارج ہو جاتے ہیں، اس میں بڑی مقدار میں اینٹی آکسیڈنٹ اجزاء ہوتے ہیں اور بے شمار غذائیت بخش اجزاء سے بھی مالامال ہے،لائکوپین ایسا اینٹی آکسیڈنٹ نہیں ہے جو انسانی جسم میں خود پیدا ہوتا ہو بلکہ انسانی جسم اسے بیرونی ذرائع سے ہی حاصل کر سکتا ہے تاکہ جسم کا نظام ٹھیک طریقے سے چلتا رہے اکثر دیگر پھل اور سبزیوں میں بھی ضروری صحت بخش اجزاء ہوتے ہیں مگر لائکوپین کے معاملے میں جس قدر ٹماٹر مالامال ہے کوئی اور نہیں۔ ٹماٹر کو سب سے پہلے کیسے متعارف کروایا گیا اور قدیم و جدید طب میں اس کے کون کونسے بے مثال فوائد بتائے گئے ہیں وہ آپ کو تفصیل سے بتاتے ہیں لیکن اس سے پہلے ویڈیو کو لائک کریں ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں اور گھنٹی کا بٹن دبا دیں۔ ٹماٹر کے حوالے سے پوری دنیا میں متعدد تحقیقات کی جا چکی ہیں اور ابھی بھی کی جا رہی ہیں اور میڈیکل سائنس اس حوالے سے لوگوں کو بلاشبہ بہت کچھ بتا چکی ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ لوگوں تک پہنچایا جا چکا ہے اس سے کہیں زیادہ ٹماٹر کے فوائد ہیں اس پر تحقیق سے نہ صرف یہ پتہ چلا ہے کہ ٹماٹر سرطان، امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ کولیسٹرول کو بھی اعتدال میں رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے اس میں شک نہیں کہ یہ بہت ہی خوش آئند بات ہے کہ ٹماٹر کے صحت پر جو مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کو ہرگزرنے والے دن کے ساتھ دستاویزی شکل دی جارہی ہے اور ہرگزرنے والے دن کے ساتھ ہمیں اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ نیا ہی معلوم ہوتا ہے۔۔۔سرطان اور خاص کر پروسٹیٹ سرطان، رحم کا سرطان، آنتوں اور پیٹ کا سرطان، منہ اور غذائی نالی کا سرطان ان سب کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ ان کو روکنے اور ان کے خلاف مزاحمت پیش کرنے میں لائکوپین زبردست کردار ادا کرتا ہے، لائکوپین پہلے سے موجود سرطان کے خلیوں کو ختم کرتا ہے اور بعد میں پیدا ہونے والے خلیوں کو روک دیتا ہے، ٹماٹر کی اہمیت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو سکتا ہےکہ ٹماٹر کا جوس لائکوپین سے بھرپور ہوتا ہے اور اس کے روزانہ استعمال سے تمام فوائد حاصل ہو سکتے ہیں جن کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے، اس کا آسان سا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص روازنہ ۴۵۰ ملی لیٹر ٹماٹر کا جوس پیے تو وہ ساری زندگی صحت مند رہ سکتا ہے لیکن ایک انتہائی اہم بات ذہن نشین کر لیں کہ لائکو پین کے جہاں بہت سے فوائد ہیں وہاں اس کے نقصانات بھی ہیں خاص کر حاملہ خواتین اور وہ خواتین جو بچوں کو دودھ پلا رہی ہیںان کو اس کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے، اس میں تیزابیت بہت زیادہ ہوتی ہے تو یہ سینے کی جلن کا سبب بھی بن سکتا ہے ، یو ایس ڈیپارٹمنٹ ہیلتھ اینڈ ہیومن کی تحقیق بتاتی ہے کہ گردوں کے مریضوں کو ٹماٹر سے پرہیز کرنی چاہیے ۔۔۔ اسی لیے ہم اکثر کہتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو اپنی روٹین بنانے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیا کریں تا کہ وہ آپ کی جسمانی کنڈیشن کو دیکھتے ہوئے آپ کو سجیسٹ کرے کہ آپ کو کیا کھانا چاہیے۔۔۔ یہ جتنی بھی تحقیقات ہوتی ہیں یہ سینکڑوں لوگوں پر اکٹھی کی جاتی ہیں اور ان کا مجموعی رزلٹ سامنے لایا جاتا ہے، اس لیے قدرت نے جو چیز بھی پیدا کی ہے وہ متعدد فوائد کے ساتھ چند نقصانات بھی رکھتی ہےتو اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں اور مستقل روٹین بنانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کر لیں۔۔۔ اگرچہ ٹماٹر کو مختلف فارمز میں لگایا جاتا ہے اور اس کی شکل ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہے مگر غذائیت میں سب برابر ہوتے ہیں، جب ٹماٹر کی پروڈکٹس بناتے وقت حرارت کے عمل سے گزارا جاتا ہے تو لائکوپین میں کمی ہونے کی بجائے اور اضافہ ہوجاتا ہے، اگرچہ ٹماٹر کے انسانی صحت پر اثرات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا اور تحقیق بھی کی گئی ہے اس کے باوجود میڈیکل سائنس کمیونٹی کا یہی کہنا ہے کہ وہ اب بھی ٹماٹر کے سارے فوائد کے بارے میں جاننے میں ناکام رہے ہیں اور اس حوالے سے مسلسل تحقیق کی جارہی ہے،ٹماٹر اب تک پھلوں اور سبزیوں کے مقابلے میں ان بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں زیادہ موثر ثابت ہوئے ہیں، جو بنی نوع انسان کی جان کو عموما لگی رہتی ہیں، بازار میں ٹماٹر کی بے شمار اقسام موجود ہیں اور ایسے میں اس کو استعمال کرکے صحت بخش فوائد حاصل کرنا اور بھی آسان ہو گیا ہے اگر آپ بھی اس سے سو فیصد مستفید ہونا چاہتے ہیں تو کسی ایسی جگہ کی تلاش کریں جہاں آپ خود اسے اُگاسکیں، اچھا ہو گا کہ آپ نامیاتی آرگینک ٹماٹر اُگائیں یہ ایک تفریحی عمل ہوگا آپ کو دھوپ کے ذریعے کچھ وٹامن ڈی بھی مل جائے گا اور ٹماٹر تو ہے ہی صحت بخش، ٹماٹر میں ایسے مرکب شامل ہیں جو سرطان، امراض قلب موتیا اور دیگر عارضہ میں نہ صرف بہت مفید ثابت ہوئے ہیں بلکہ ان کے خلاف سخت مزاحمت کرتے ہیں، ابتداء میں ٹماٹر کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس کے استعمال سے دماغ کا بخار اور سرطان ہوجاتا ہے اور اسے صحت کے لیے خطرناک سمجھا گیا، مگر بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے ایک بھی بات درست نہیں ہے اور اس کے اثرات تو ان باتوں کے برعکس ہیں، سن1800میںامریکہ میں ٹماٹر استعمال نہیں کیا جاتا تھا، اس کی ابتداء ایسے ہوئی کہ اسی دہائی کے دوران نیوجرسی کا ایک شخص کرنل رابرٹ جونسن اسے بیرونِ مْلک سے امریکہ لے کر آیا چونکہ لوگ ٹماٹر سے خائف تھے لہذا اس نے اعلان کیا کہ وہ 26ستمبر 1820کو ٹماٹر کھانے کا عوام میں مظاہرہ کرے گا اس نے اپنے آبائی شہر سلیم (Salem) میں سینکڑوں لوگوں کے سامنے مظاہرہ کیا اور ٹماٹر کی پوری ایک ٹوکری کھا گیا، لوگ اس انتظار میں تھے کہ بس یہ لڑھکنے ہی والاہے مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور تب سے ٹماٹر امریکیوں کی غذا کا ایک اہم جزو بن گیا۔۔۔ٹماٹر میں وٹامن سی کی بھاری مقدار ہوتی ہے ایک انسان کو روزانہ جس قدر وٹامن چاہیے ہوتے ہیں۔۔۔ اس کا 40فی صد ٹماٹر سے حاصل ہو سکتا ہے، اس کے ذریعے وٹامن اے 15فی صد، پوٹاشیم 8فی صد اور 7فیصد آئرن خواتین کو ملتا ہے جبکہ مردوں کو اس سے دس فی صد آئرن ملتا ہے،ٹماٹر میں لائکو پین نامی لال رنگ کا یہ مرکب اینٹی اکسیڈنٹ ہوتا ہے اور فری ریڈیکل سیل کو نیوٹرلائز (Neutralize) کرتا ہے جو انسانی سیل کو نقصان پہنچاتے ہیں، ابھی حال ہی میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ ایک اور جانے پہچانے اینٹی آکسیڈنٹ بیٹا کروٹین (Beta-carotene) کے مقابلے میں لائکوپین دوگنی قوت کا حامل ہے، ہارڈورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ جو شخص ہفتہ میں دس بار ٹماٹر کھاتا ہے اس میں سرطان کے امکانات 45فی صد کم ہو جاتے ہیں، تاہم اس کے فوائد صرف پروسٹیٹ کینسر تک ہی ہیں، اٹلی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو شخص روزانہ ٹماٹر بطور سلاد کھاتا ہے اس میں آنتوں اور پیٹ میں سرطان ہونے کے خطرات میں 60فی صد کمی آجاتی ہے،ایک اور تحقیق کے مطابق لائکوپین پھیپھڑے، چھاتی اور رحم کے سرطان کے خلاف سخت مزاحمت پیش کرتا ہے،یہ بھی بتایا گیا ہے کہ لائکوپین کی وجہ سے بزرگ لوگ زیادہ عرصہ تک سرگرم رہ سکتے ہیںاور اسی جادوئی مادے کی وجہ سے ٹماٹر کا رنگ چمکدار سرخ ہوتا ہے،ٹماٹر میں موجود وٹامن بی بلڈپریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے میں معاون ہوتا ہےاس کے نتیجے میں یہ فالج ، دل کے دورے اور دیگر خطرناک مسائل سے بچاتا ہے۔۔۔ٹماٹر میں موجود وٹامن اے آپ کے بالوں کے لیے مفید ہے جو بالوں کو مضبوط اور چمک دار رکھتا ہے، اس کے علاوہ یہ آنکھوں ، دانتوں ، جلد اور ہڈیوں کے لیے بھی مفید ہے، ٹماٹر میں موجود وٹامن اے نظر کو درست رکھنے میں مدد کرتا ہے،ٹماٹر میں معدن کرومیم بھی خاصی مقدار میں ہوتا ہے جو کہ شوگر کے مریضوں میں بلڈشوگرکو کنٹرول میں رکھتا ہے،ٹماٹر سگریٹ نوشی سے ہونے والے نقصان کو بھی کم کرتا ہے،ٹماٹر کو بیجوں کے بغیر کھایا جائے تو یہ پتے اور گردے کی پتھری کے خطرے کو کم کرتا ہے،ٹماٹر جلد کے لیے بھی مفید ہے کیونکہ اس میں موجود لائسوپین نامی مادہ جلد کی حفاظت کرتا ہے،اس سلسلے میں ٹماٹر کے استعمال کا ایک طریقہ یہ ہے کہ دس بارہ ٹماٹروں کا چھلکا اتاریں اور چھلکے کو اپنے چہرے یا کسی بھی حصے کی جلد پر بچھادیں اور دس منٹ تک بچھا رہنے دیں،اس کے بعد اس کو دھودیں،آپ کی جلد پہلے سے زیادہ تروتارہ اور چمک دار ہوجائے گی،ٹماٹر کو پکانے سے زیادہ تر وٹامن سی ضائع ہوجاتی ہے اس لیے ٹماٹروں کو کچا کھانا زیادہ فائدہ دیتا ہے۔۔۔تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ٹماٹر میں موجود لائسوپین مردوں میں غدودوں کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے، اس کے علاوہ یہ معدے اور آنتوں کے کینسر سے بھی بچاتا ہےلائسوپین ایک ایسا قدرتی اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کینسر کے خلیات کی افزائش کو روکتا ہے،مزے کی بات یہ ہے کہ پکا ہوا ٹماٹر کچے ٹماٹر کے مقابلے میں زیادہ لائسوپین پیدا کرتا ہے اس لیے ٹماٹر کا سوپ پینا صحت کےلئے نہایت فائدے مند ہے،ٹماٹر میں وٹامن کے اور کیلشیم بھی خاصی مقدار میں پایا جاتا ہے جو کہ ہڈیوں اور ہڈیوں کے ٹشوز کے لیے مفید ہوتا ہے۔

پستہ کے فوائد

پستہ صحت کے لیے مفید عناصر سے نہ صرف بھرپور ہوتا ہے بلکہ یہ متعدد بیماریوں سے تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔اس کے بے شمار فائدے ہیں جن میں بعض کا تعلق جلد اور بالوں کی خوبصورتی سے ہے۔ اس میں بڑی مقدار میں ریشہ، لحمیات، وٹامن سی، تانبہ، فولاد اور کیلشیئم پایا جاتا ہے۔بس یہ سمجھ لیجیے کہ یہ قدرتی حسن افروز مرکب ہے۔صحت کےامور کے متعلق ویب سائٹ ’’ بولڈ اسکائی‘‘ کی رپورٹ کے مطابق خواتین کو اپنی روز مرہ کی غذا میں پستے کو شامل کرنا چاہیے تاکہ وہ ان فوائد کو حاصل کر سکیں جو ان کی خوبصورتی نمایاں کرنے کے سلسلے میں شاندار طور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔(۱) پستہ انتہائی مفید چربیلے تیزابوں (فیٹی ایسڈ) سے بھرپور ہوتا ہے جو مستقل طور پر صحت مند، نرم و ملائم اور دمکتی جلد کو برقرار رکھتا ہے۔(۲) اس میں ایسے روغن پائے جاتے ہیں جو جلد کو نم کرتے ہیں اور اس سے جلد کو زبردست قسم کی ملائمت حاصل ہوتی ہے۔روزانہ کی بنیاد پر پستہ کھانے سے جلد کی ساخت نرم اور پرکشش ہوجاتی ہے۔(۳)پستہ اینٹی آکسیڈنٹس پر بھی مشتمل ہوتا ہے جو جلد پر ڈھلتی عمر کی علامات ظاہر ہونے کو روکتا ہے۔لہذا روزانہ پستہ کھانے سے آپ اپنی عمر سے کم نظر آئیں گی اور یقینا ہر خاتون یہ ہی خواہش رکھتی ہے۔(۴)اسی طرح روزانہ باقاعدگی کے ساتھ ایک مٹھی پستے کھانے سے سورج کی شعاؤں کے نقصان دہ اثرات سے جلد کو تحفظ حاصل ہوتا ہے، اس کے علاوہ پستہ دھوپ کی جلن کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ جلد کے سرطان سے بھی حفاظت کرتا ہے۔(۵)پسے ہوئے پستے کے چار سے پانچ چمچے لے کر اس میں دو چمچے ناریل کا تیل ملا کر کریم تیار کی جاسکتی ہے،اس کریم کو براہ راست کھوپڑی پر لگا کربیس منٹ کے لیے چھوڑ دیں۔اس کے بعد بالوں کو اچھی طرح سے پانی سے دھو لیجیے،اس کریم کے لگانے سے بالوں کو خصوصی لچک اور تازگی حاصل ہوگی۔(۶)پستہ میں بھرپور طور پر بائیوٹن پایا جاتا ہے، لہذا روزانہ درمیانی مقدار میں پستے کھانا بالوں کے گرنے کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ پستہ بال گرنے سے متعلق مسائل کا جادوئی اور فعال حل پیش کرتا ہے۔

پاؤں کے تلوؤں کی مالش کے فائدے

قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے مطابق پاؤں کے نیچے 100کے قریب ایکوپریشر پوائنٹس ہوتے ہیں، جن کو مساج کرنے سے انسانی اعضاء صحت یاب ہوجاتے ہیں،اس کو Foot Reflexogyکہا جاتا ہے، پاؤں کے تلووں پر مساج کرنے سے 100مختلف قسم کی بیماریوں کا علاج بغیر آپریشن اور دوائی کے کیا جا سکتا ہے، اس طریقہ علاج کے حیران کن مثبت نتائج کی وجہ سےاس وقت عموماً پوری دنیا میں پاؤں کی مساج تھراپی سے مختلف بیماریوں کا نہ صرف علاج کیا جارہا ہے بلکہ اس سے اعضاء کو بھی ٹھیک کیا جا رہا ہے۔۔۔ کمر یا جسم کے کسی ایسے حصے میں جو ریڑھ کی ہڈی سے اٹیچ ہو۔۔۔ اگر ان میںدرد ہوجائے تو صحت کے بہت سے سنگین مسائل پیدا ہوجاتے ہیں اور اس سے نجات حاصل کرنے کیلئے انسان ہر طرح کی دوائی اور درد کش ادویات کھانے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔۔۔ان ادویات کا وقتی فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں درد سے تھوڑے عرصے کے لئے نجات مل جاتی ہے لیکن اصل میں یہ ہمارے معدے اور جسم کے دیگر اعضاء کے لئے بہت ہی خطرناک ثابت ہوتی ہیںلیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ پاؤں میں ایک جگہ ایسی ہے جہاں کی رگیں براہ راست ہماری کمر کے ساتھ جڑی ہیں اور اگر اس حصے کی مالش کی جائے تو نہ صرف کمر درد کے عذاب سے چھٹکارا ملتا ہے بلکہ اس کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔۔۔ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ ہمارے پاؤں کی رگیں براہ راست ریڑھ کی ہڈی کے ساتھ جڑی ہوتی ہیں اور اگر ہمارے پاؤں کو سکون ملے تو اس سے کمر کے درد میں کافی راحت ملتی ہے۔۔۔ پاؤں کے مساج اور پاؤں کی ورزشوں کے کئی طریقے ہیںجن سے نہ صرف ہم کمر درد سے آرام پا سکتے ہیں بلکہ جسم کے دیگر حصوں میں درد کیساتھ ساتھ اور کئی بیماریوں سے نجات حاصل سکتے ہیں۔۔۔ اگر آپ کی کمر میں درد ہے اور کافی علاج کے بعد بھی آپ کوآرام نہیں آرہا تو آپ پاؤں کے تلوؤں کی اس طریقے سے مالش کر یں کمر کی پرانی سے پرانی درد چند دن مالش کرنے سے ٹھیک ہو جائے گی۔۔۔ آپ کو بس یہ کرنا ہے کہ دراز ہوکر بیٹھ جانا ہے اوردائیں گھٹنے پر بائیں پاؤں کو رکھیں اور پاؤں کے درمیان جہاں آپ کو رگیں نظر آئیں ان پر مساج کریں اور یہ عمل روزانہ 10سے15منٹ تک کریں،آپ خود محسوس کریں گے کہ بہت تیزی سے کمرکے درد میں کمی واقع ہورہی ہے،آپ چاہیں تو پاؤں کی مالش کے لئے کسی کی خدمات بھی حاصل کرسکتے ہیں۔۔۔اگر روزانہ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کا مساج کر لیا جائے تو جسم میں خون کی روانی متاثر نہیں ہوتی آکسیجن جسم کے تمام حصوں تک پہنچ جاتی ہے۔۔۔پاؤں کا مساج پرسکون نیند کے لئے بہت ضروری ہے یہ ذہنی دباؤ، بے خوابی کو دور کر کے دماغ کو پر سکون کر دیتا ہے۔۔۔ اگر جسم کے کسی اور حصے میں درد رہتا ہو یا سارا دن تھکاوٹ اورسستی میںگزرتا ہو تورات کوسوتے وقت پورے پاؤں پر تیل لگائیں خاص طور پر تلوؤں پرتیل لگا کر تین منٹ تک دائیں پاؤں کے تلوے اور تین منٹ بائیں پاؤں کے تلوے پرمالش ضرور کریں ۔۔۔اس طرح مالش کرنا جسمانی طور پر بہت فائدہ مندہو گا اوراس سے آپ کو بہت سی بیماریوں سے نجات حاصل ہو گی ۔۔۔ اگر پاؤں کے انگوٹھے کے کونوں کودبایا جائے اور اس کا مساج کیا جائے تو یہ ہائپو تھیلمس (hypothalamus)کے مریضوں کے لئے بہت اچھا ہے۔۔۔ایسے لوگ جنہیں وزن کا مسئلہ درپیش ہوتو انہیں چاہیے کہ اس جگہ (یعنی پاؤں کے انگوٹھے کو) دبائیں،اسے دبانے سے نہ صرف آپ کی بھوک کنٹرول ہوگی بلکہ آپ کا وزن بھی قدرتی طور پر کم ہوگا۔۔۔اگر انگوٹھے کے درمیان والی جگہ پر مساج کیا جائے تو اس کاپچوٹری گلینڈ پر اچھا اثر پڑتا ہے،اگر آپ اس جگہ کو دبائیں گے تو ہارمونز کے عدم توازن کا مسئلہ ٹھیک ہوجائے گا۔۔۔اگر انگوٹھے کے نیچے والی جگہ کو دبایا جائے تو یہ تھارائیڈ گلینڈ کو ٹھیک کرے گا۔۔۔تھارائیڈ گلینڈ کی کارکردگی میں بہتری آنے سے آپ کے ذہنی تناؤ میں کمی آئے گی،اگر آپ مسلسل تناؤ کا شکار ہیں تو اس جگہ کو ضرور دبائیں۔۔۔پاؤں کی درمیان والی جگہ کے ساتھ بہت سے رگیں جڑی ہوتی ہیں اور اگر اس جگہ کو دبایا جائے تو جسم میں ایک سکون آنے کے ساتھ تناؤ میں کمی آئے گی۔۔۔اگر آپ جسم میں توانائی کی کمی کا شکار ہیں اوراس وجہ سے اکتا چکے ہیں تو پاؤں کے درمیان والی جگہ سے تھوڑا نیچے باہر والی جگہ کو دبائیں اور اپنی کھوئی ہوئی توانائی بحال کریں۔۔۔اگر آپ ایڑھیوں کے درمیان والی جگہ کو دبائیں گے تو یہ جسم سے تمام زہریلے مادوں کو نکالنے میں بہت مدد دے گا،ایسے افراد جو تمباکو نوشی کرتے ہیں انہیں اس جگہ دبانے سے کافی سکون ملتا ہے۔۔۔ اب ہم آپ کو جسم کے درد ٹھیک کرنے کے لئے پاؤں کی چند آسان ورزشیں بتائیں گے۔۔۔آپ اپنے پاؤں کے پنجوں پر زور دیتے ہوئے اس کے اوپر کھڑے ہوں اور تین تک گنتی گنیں، اس عمل کو 10بار دہرائیں ،اس طریقے سے آپ کے جسم میں چستی برقرار رہے گی اور جسم کا توازن بھی کافی بہتر ہوگا۔۔۔ آپ اپنے پاؤں کے پنجوں کے بل چلیں،اس طرح 15سیکنڈ چلیں اور 10سیکنڈ کا آرام دینے کے بعد دوبارہ اس عمل کو دہرائیںاس سے آپ کی پنڈلیوں اور پاؤں کی ورزش ہوگی اور دردمیں خاطر خواہ کمی ہوگی۔۔۔اپنی کمر کے بل زمین پر لیٹ جائیں اور اپنی ٹانگوں کو زیادہ سے زیادہ اوپر اٹھائیں اور اب ایک پاؤں کو دوسرے کے اوپر رکھیں اور دس تک گنیں،اب دوسرے پاؤں کے ساتھ بھی یہی عمل دہرائیں۔۔۔ایک پینسل یا پین کو اپنے پاؤں کے پنجے کے ساتھ اٹھائیں اور 15سے20 سیکنڈ تک پنجوں میں پکڑیں اور اب دوسرے پاؤں کے ساتھ یہی عمل دہرائیں۔۔۔جیسے پاؤں کی مالش اور ورزش سے جسمانی دردیں ٹھیک ہوتی ہیں۔۔۔ اسی طرح ہمارے جسم میںجو زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں وہ مادے پاؤں پرdetoxification patches(سم ربائی پیچ) لگانے سے مر جاتے ہیں۔۔۔ ہمارے جسم میں وقت کے ساتھ ساتھ زہریلے مادے اکٹھے ہوتے رہتے ہیں اور ان سے نجات ضروری ہوتی ہے۔۔۔جسم سے زہریلے مادے نکالنے کے لئے Detoxification patches (سم ربائی پیچ)کا استعمال کیا جاتا ہے جو کہ جسم کے مختلف حصوں بالخصوص پاؤں میں لگائے جاتے ہیں،اس کے استعمال سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ساتھ ہی یہ جسم کو تروتازہ رکھتا ہے، چونکہ یہ پیچز کافی مہنگے ہوتے ہیں لہذا لوگ ان کا استعمال کرتے ہوئے گھبراتے ہیںلیکن آج ہم آپ کو یہ پیچز گھر پر بنانے کا آسان اور سستا طریقہ بتائیں گے۔۔۔ایک ایلومینیم فوائل لے کر 10x6cmکا ٹکڑا کاٹ لیں،اب مختلف ہربل اشیا جیسے ہلدی،سبز چائے،چنبیلی،چیلی پاؤڈر اور وٹامن سی پاؤڈر کو مکس کرلیں،ان تمام اجزاءکو اچھی طرح باریک کرلیں اور فوائل میں ڈال دیں،اس کے بعد انہیں روئی یا کپڑے پر ڈال کر پاؤں سے باند ھ دیں اور ساری رات لگا رہنے دیں۔ اب کچھ لوگوں کا احوال بتاتے ہیںجن کو کافی عرصے سے مختلف جسمانی تکالیف تھی مگر پاؤں کی مالش اور خصوصا پاؤں کے تلووں کی مالش کرنے سے تمام تکالیف سے چھٹکارا مل گیا۔ ایک خاتون نے کہتی ہیں کہ میرے نانا 87سال کے فوت ہوئے، نہ کمر جھکی، نہ جوڑوں میں درد، نہ سر درد، نہ دانت ختم ، خاتون نے کہا کہ ایک بار باتوں باتوں میں نانا جی بتانے لگے کہ جب میں کلکتہ میں ریلوے لائن پر پتھر ڈالنے کی نوکری کر رہا تھا تومجھے ایک سیانے نے مشورہ دیا تھا کہ سوتے وقت اپنے پاؤں کے تلوؤں پر تیل لگا لیا کریں بس یہی عمل میری شفاء اور فٹنس کا ذریعہ ہے۔ ایک سٹوڈنٹ نے بتایا کہ میری والدہ اسی طرح تیل لگانے کی تاکید کرتی ہیں اور بتاتی تھیں کہ بچپن میں میری نظر کمزور ہو گئی تھی جب پاؤں پر تیل لگانے کا عمل مسلسل کیا تو میری نظر آہستہ آہستہ بالکل مکمل اور صحت مند ہو گئی۔ ایک صاحب جو کہ تاجر ہیں انہوںنے لکھا میں چترال میں سیرو تفریح کرنے گیا ہوا تھا وہاں ایک ہوٹل میں سویا مجھے نیند نہیں آ رہی تھی میں نے باہر گھومنا شروع کر دیا میں باہر بیٹھا تھا اور رات کا وقت تھا، بوڑھا چوکیدار مجھے کہنے لگاکیا بات ہے ؟ میں نے کہا نیند نہیں آ رہی ،وہ مسکرا کر کہنے لگا آپ کےپاس کوئی تیل ہے میں نے کہا نہیں وہ گیا اور تیل لایا اور کہا اپنے پاؤں کے تلوؤں پر چند منٹ مالش کریں بس پھر کیا تھا تھوڑی دیر میں ہی میں خراٹے لینے لگا اب میں نے معمول بنا لیا ہے۔ ایک بہن نے کہتی ہیں کہ میرے پاؤں میں ہمیشہ سوزش رہتی تھی جب چلتی تھی تو تھکن سے چور ہو جاتی تھی میں نے رات کو سونے سے پہلے روزانہ پاؤں کے تلوؤں پر زیتون کے تیل سے2منٹ کی مالش کرنا شروع کر دی اس عمل سے میرے پاؤں کا درد ختم ہو گیا ۔۔۔ میں یہ ٹوٹکہ تقریباً پچھلے 15سال سے کر رہی ہوں مجھے اس سے بہت پر سکون نیند آتی ہے میں اپنے چھوٹے بچوں کے پاؤں کے تلوؤں پر بھی تیل سے مالش کرتی ہوں اس سے وہ بہت خوش ہوتے ہیں اور صحت مند رہتے ہیں ۔۔۔ زبردست کمال کی چیز ہے،یہ ٹوٹکہ پر سکون نیند کیلئے نیند کی گولیوں سے بہتر کام کرتا ہے ، میں اب روزانہ رات کو پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کر کے سوتی ہوں۔ ایک اور خاتون کہتی ہیں میں تھائیرائیڈ کی مریضہ تھی میرے ٹانگوں میں ہر وقت درد رہتا تھا اور میرے پاؤں سن رہتے تھے پچھلے سال مجھے کسی نے رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر تیل کی مالش کا یہ ٹوٹکہ بتایا میں مستقل کر رہی ہوں اب میں عموماً پر سکون رہتی ہوں ۔ ایک پروفیسر صاحب کہتے ہیں کہ بارہ تیرہ سال پہلے مجھے بواسیر تھی ، میرا دوست مجھے ایک حکیم صاحب کے پاس لے گیا جن کی عمر 90سال تھی انہوں نے مجھے دوا کے ساتھ ساتھ رات کو سونے سے پہلے پاؤں کے تلوؤں پر انگلیوں کے درمیان ، ناخنوں پر اور اسی طرح ہاتھوں کی ہتھیلیوں ، انگلیوں ، کے درمیان اور ناخنوں پر تیل کی مالش کرنے کا مشورہ دیا اور کہا ناف میں چار پانچ قطرے تیل کے ڈال کر سونا ہے میں نے حکیم صاحب کے اس مشورے پر عمل کرنا شروع کر دیا اس سے میرے خونی بواسیر میں کافی حد تک آرام آ گیا اس ٹوٹکے سے میرا قبض کا مسئلہ بھی حل ہو گیا میرے جسم کی تھکاوٹ بھی دور ہو جاتی ہے اور پر سکون نیند آتی ہے اور بقول حضرت حکیم صاحب دامت برکاتہم کے ناک کے اندر سرسوں کا تیل لگا کر سونے سے خراٹے آنے بند ہو جاتے ہیں ۔

بچے کی دُعا قبول ہوئی

دعا اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے مستفید ہونے کا اہم ذریعہ اور سبب ہے ، دعا میں وہ طاقت اور قوت ہے کہ جو لکھی ہوئی تقدیر کو تبدیل کر دیتی ہے ، آنے والے مصائب کو دور کر دیتی ہے ، مشکل حالات و بلیّات میں پھنسنے سے بچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب وتعلق کو بڑھاتی ہے ۔۔۔دعا اتنی مہتم بالشّان اور لابدی امر ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بارہا اس کے مانگنے کی تاکید فرمائی ہے اور نہ مانگنے والوں پر سخت نکیر، ناراضگی اور غضب کا اظہار فرمایا ہے چناں چہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:ترجمہ اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو میں اُن کے قریب ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے مانگتا ہے (سورةالبقرة 186 ) اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :ترجمہ:دعا موٴمن کا ہتھیار،دین کا ستون اور آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، دعا مانگنے سے عاجز مت بنو ، اس لیے کے دعا کے ساتھ کوئی شخص ہلاک نہیں ہوسکتا (ابنِ حبان )دعا مانگنے سے تمام مصیبتیں ٹل جاتی ہے جیسے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ترجمہ :دعا ہر آئی ہوئی اور آنے والی مصیبت کے ازالے میں نافع ہوتی ہے ، پس اے اللہ کے بند و دعا کو لازم پکڑو ( ترمذی ) ایک جگہ توآپﷺ نے مکمل تصریح فرمائی ہے ترجمہ:جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے (ابن ماجہ ) ان تمام فرامین سے معلوم ہوا کہ دعااہم عبادت اور مہتم بالشان امرہے ،ہر قسم کی پریشانیوں،مصیبتوں اور آفتوں سے بچانے کااور اللہ کے قرب اور نزدیکی کو بڑھانے کا ذریعہ ہے اوردنیا و آخرت میں سر خ روئی اور سر بلندی کا سبب ہے ۔۔۔ لیکن آج المیہ یہ ہے کہ مسلمان دعا کی حقیقت سے واقف نہیں ہے ، رسمی رواجی طور پر چند رٹے ہوئے الفاظ دہرا کر منہ پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، اور اسی کو دعا سمجھتے ہیں ، حالاں کہ دعا ایک حقیقت رکھتی ہے ، کچھ شرائط و ضوابط چاہتی ہے اور چند آداب کا تقاضا کرتی ہے ، اگر اُن آداب کی رعایت کی جائے، اور دعا کرتے وقت ان کو عملی جامہ پہنایا جائے، تب دعا عند اللہ مقبول ہوگی اور اپنا اثر دکھلائی گی اور اگر اُن آداب کی رعایت کیے بغیر دعا مانگی جائے ،تو اس میں جان نہ ہوگی اور اس کے ذریعے حاجات پوری نہ ہوں گی ۔۔۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی دعا کے آداب کی رعایت کو لازم قرار دیتے ہوئے فرمایا ترجمہ:اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔۔۔ مومن بندہ جب عاجزی و انکساری کے ساتھ دل سے دعا کرتا ہے اگر کوئی چیز قبولیت دعا کے لیے مانع نہ ہو تو اس کو تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور ملتی ہے یا تو اس کی مانگی ہوئی مراد پوری کردی جاتی ہے یا اس کے ساتھ کوئی پیش آنے والی مصیبت ہٹادی جاتی ہے یا پھر آخرت میں اس کا کوئی اور بدل متعین کردیاجاتا ہے جو اس کو آخرت میں عطا کیا جائے گا، الحاصل مذکورہ حالت کی دعاء ضرور قبول کی جاتی ہےنبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں مانگتا اور جلد بازی نہیں مچاتا) کہا گیا ،اللہ کے رسولﷺجلد بازی مچانے سے کیا مراد ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا(وہ یہ کہنے لگ جائے کہ:میں نے بہت دعا کی ہے، انتہائی زیادہ دعائیں مانگیں ہیں، لیکن اللہ میری دعا قبول نہیں فرماتا، وہ یہ کہہ کر تھک ہار جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے)(صحیح مسلم حدیث نمبر 2736)لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دعا کی حقیقت کو سمجھے اور اس کے آداب سے واقفیت حاصل کرے اور ان آداب کی رعایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑائے، وہ ضرور سنے گا۔۔۔اب ہم دعا کے کچھ آداب اور دعا کرنے کا طریقہ آپ کو بتاتے ہیں جس پر عمل کر کے آپ اپنی دُعا کو باعث قبولیت بنا سکتے ہیںاس کے بعد اس پر ایک واقعہ سنائیں گے کہ اگر اللہ تعالی سے سچے دل سے دعا کی جائے تو وہ دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے ۔۔۔مزید تفصیل میں جانے سے پہلے اس ویڈیو کو لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارا چینل ضرور سبسکرائب کریں۔
اخلاص اور یقین کا ہونا :دعا گہرے اخلاص اور پاکیزہ نیت کے ساتھ مانگی جائے ، اپنی دعاوٴں کو نمود و نمائش ، ریا کاری اور شرک سے بے آمیز اورپاک رکھا جائے ، اور پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دعا مانگی جائے کہ وہ اللہ ہمارے حالات سے پورا واقف اور انتہائی مہربان ہے ، وہ اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے اور ان کی دعاوٴں کو قبول بھی فرماتا ہے ۔
خشوع و خضوع کا التزام کرنا: دعا کرتے وقت خشوع خضوع کو پیدا کرنا اور اپنے اوپر منت، سماجت اور رونے کی کیفیت کو ظاہر کرنا نہایت ضروری ہے ، چناں چہ سیدنا ابو بکرصدیق ؓکا فرمان ہے کہ اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے جیسے شکل ہی بنا لو ، رونے والی دعا رنگ لاتی ہے ، غزوہ بدر کے موقع پر حضوراکرم ﷺ کے پوری رات رونے نے کیا اثر دکھلایا کہ چھوٹی سی جماعت نے کفارمکہ کو شکست فاش دے دی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی ساری رات آہ وزاری نے دشمن کے بحری بیڑے کو غرق کردیا ، دعائیں آج ان صفات سے خالی ہیں۔۔۔دعا کرتے وقت ظاہر اور باطن کو پاک رکھنا اوردعا مانگتے وقت ظاہری آداب ،طہارت ،پاکیزگی کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے اور قلب کو بھی ناپاک جذبات ، گندے خیالات اور بے

ہودہ معتقدات سے پاک رکھنا چاہیے۔
دعا دل سے مانگنی چاہیے ۔۔۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے ۔
بات جو دل سے نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے

پرَ نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اس لیے دعا کرتے وقت ہمہ تن متوجہ ہو کر دعا مانگنی چاہیے۔
دعا میں تنگ نظری نہ کرنی چاہیے:دعا میں تنگ نظری اور خود غرضی سے بھی بچنا چاہیے اور خدا کی عام رحمت کو محدود سمجھنے کی غلطی کر کے اس کے فیض و بخشش کو اپنے لیے خاص کرنے کی دعا نہ کرنی چاہیے۔۔۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مسجدِ نبوی میں ایک بدو آیا ، اس نے نماز پڑھی ، پھر دعا مانگی اور کہا اے خدا، مجھ پر اور محمدﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا، تو نے خدا کی وسیع رحمت کو تنگ کردیا(بخاری)
مسنون دعاوٴں کا اہتمام کرنا چاہیے:جو دعائیں حضور اکرمﷺ نے اپنی مبارک زبان سے مانگی ہیں، ان کا اہتمام کرنا چاہیے ، کہ ان دعاؤں نے قبولیت کے درواز ے دیکھ رکھے ہیں اور دعا عربی میں مانگنے کو ترجیح دی جائے ، دعا کے ساتھ ساتھ اسباب بھی اختیارکرنے چاہییں:صرف دعا پر اکتفا کرنا کہ اے اللہ مجھے گھر بیٹھے بیٹھے رزق دے دے اور پورا دن گھر میں پڑا رہے ، کوئی سبب اختیار نہ کرے ، تو ایسی دعا کہاں قبول ہوگی ؟ حضور اکرمﷺ غزوہ خندق میں بھوک کی وجہ سے نڈھال ہورہے تھے ، لیکن سبب اختیار کرنے ( کچھ سالن اور روٹی ملنے ) کے بعد آپﷺ نے برکت کی دعافرمائی، تب فورا ہی دعا پر اثرا ت مر تب ہوگئے ۔
دعا برابر مانگتے رہنا چاہیے:خدا کے حضور اپنی عاجزی ، احتیاج اور عبودیت کا اظہار خود ایک عبادت ہے، خدا نے خود دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بندہ جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی سنتا ہوں ، اس لیے دعا مانگنے سے کبھی نہ اکتائیے اور اس چکر میں کبھی نہ پڑیئے کہ دعاسے تقدیربدلے گی یا نہیں ، تقدیر کا بدلنا نہ بدلنا، دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا خدا کا کام ہے ، جو علیم و حکیم ہے ،بندے کا کام بہر حال یہ ہے کہ وہ ایک فقیر اور محتاج کی طرح برابر اس سے دعا کرتا رہے اور لمحہ بھر کے لیے بھی خو د کو بے نیاز نہ سمجھے ، نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعا کرنے میں عاجز ہو ( طبرانی ) اور نبی اکرمﷺ کافرمان ہے کہ جو شخص خدا سے دعا نہیں کرتا خدا اس پر غضب ناک ہو جاتا ہے ( ترمذی)
دعامیں بہ تکلف قافیہ بندی سے پرہیز کرنا چاہیے:دعا سادہ انداز میں مانگنی چاہیے ،بہ تکلف قافیہ بندی ، گانے اورسر ہلانے سے پرہیز کرنا چاہیے ، حضور اکرمﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور ایسی کیفیت کو نا پسند فرمایا ہے ۔
دعا کا درست طریقہ :باوضو ہو کر قبلہ رخ بیٹھا جائے ، خدا کو حاضر وناظر تصور کر لیا جائے ، دونوں ہاتھ اپنے سینے کے مقابل اٹھائے جائیں ، ہتھیلیاں آسمان کی طرف رکھی جائیں اور عاجزی کو اپنے اوپرمسلط کر کے نظریں نیچے رکھی جائیں ، پھر خدا تعالیٰ کی حمد و تعریف کی جائے اور درود شریف پڑھ کر پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی تمام حاجات رکھی جائیں اور پھر اپنے اقرباء ، رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کے لیے خوب دعا مانگی جائے ، اخیر میں درود شریف پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر لیا جائے اوریقین کرتے ہوئے اٹھے کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہوچکی ہوگی۔
دعا جلد قبول ہونے کاواقعہ:یہ واقعہ مجھے ایک بزرگ نے سنایا جو بہت اللہ والے بھی تھے۔۔۔ وہ آذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتے تھے اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے، اسی طرح جماعت ہونے سے پہلے کافی وقت انہیں تلاوت کیلئے مل جاتا۔۔۔آج بھی کچھ اسی طرح ہوا وہ مسجد میں تلاوت کر رہےتھے کہ ایک چھوٹا سا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا انہوںنے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا اور یہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہو گئے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا سا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا ان کی لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی بچےکی دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا ان کا دل چاہا کہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کیلئے اسے کچھ دے توانہوں نے بچے کو اپنے پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اسکو سو روپے کا نوٹ دیا بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کیا انہوں نے بچے سے پوچھا بیٹا اللہ سے کیا مانگ رہے تھے بچے نے مسکراتے ہوتا بولامیرا چاکلیٹ کھانے کو بہت دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ سے سو روپے مانگے تھے یہ کہہ کر چلا گیا بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتے رہے جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو انہیں یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سمجھا گیا تھاکاش کبھی ہم بھی ایسے ہی یقین سے اللہ سے مانگتے۔