ایک روایت کے مطابق ایک موقع پر کسی اعرابی نے آنحضرتؐ کی گردن میں آپ کی چادر کو اس شدت کے ساتھ کھینچا کہ آپؐ کی گردن پر نشان پڑ گیا۔ اس طرح چادر کھینچ کر اس نے کہا کہ آپؐ کے پاس جو مال ہے وہ نہ آپ کا ہے اور نہ ہی آپ کے باپ کا (نعوذ باللہ) ہے، اس لیے اس میں سے مجھے بھی دیں۔ حضورؐ نے فرمایا، مال تو اللہ تعالیٰ کا ہی ہے، میرا یا میرے باپ کا نہیں ہے، لیکن میں اس وقت تک تمہیں اس مال میں سے کچھ نہیں دوں گا جب تک تم مجھے اس زیادتی کا بدلہ نہ دو جو ابھی تم نے میرے ساتھ کی ہے۔ اس نے کہا کہ واللّٰہ لا أقیدک خدا کی قسم میں آپ کو کوئی بدلہ نہیں دوں گا، اس کے باوجود آپؐ نے اسے دو اونٹ سامان سے لدے ہوئے عطا فرما دیے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوسائٹی میں اجتماعی کفالت کا ایسا نظام متعارف کرایا کہ کسی ضرورت مند کی ضرورت رکتی نہیں تھی اور کسی نہ کسی طرح پوری کر دی جاتی تھی۔ آج جب کوئی مجھ سے انشورنس کے بارے میں پوچھتا ہے تو میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلام کا اجتماعی نظام کفالت اپنی روح کے ساتھ آجائے تو کسی قسم کی انشورنس کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی اور بیت المال ہی انفرادی اور اجتماعی سطح پر انشورنس کے ہر قسم کے تقاضے کو پورا کر دیتا ہے۔
( روزنامہ اسلام، لاہور ۔ ۱۳ فروری ۲۰۱۴ء)

اردو لیب کی جانب سے اہم مضامین

عصر کے بعد صرف ایک تسبیح

ہر انسان چاہتا ہے کہ ا سکی مانگی گئی ہر دعا قبول ہواور وہ ہر خواہش وہ چیز حاصل کر لیں جس کی...

پاؤں کے تلوؤں کی مالش کے فائدے

قدیم ترین چینی طریقہ علاج کے مطابق پاؤں کے نیچے 100کے قریب ایکوپریشر پوائنٹس ہوتے ہیں، جن کو مساج کرنے سے انسانی اعضاء صحت...

بچے کی دعا قبول ہوئی

دعا اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے مستفید ہونے کا اہم ذریعہ اور سبب ہے ، دعا میں وہ طاقت اور قوت ہے کہ جو...