بچے کی دعا قبول ہوئی

دعا اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے مستفید ہونے کا اہم ذریعہ اور سبب ہے ، دعا میں وہ طاقت اور قوت ہے کہ جو لکھی ہوئی تقدیر کو تبدیل کر دیتی ہے ، آنے والے مصائب کو دور کر دیتی ہے ، مشکل حالات و بلیّات میں پھنسنے سے بچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب وتعلق کو بڑھاتی ہے ۔۔۔دعا اتنی مہتم بالشّان اور لابدی امر ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بارہا اس کے مانگنے کی تاکید فرمائی ہے اور نہ مانگنے والوں پر سخت نکیر، ناراضگی اور غضب کا اظہار فرمایا ہے چناں چہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:ترجمہ اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو میں اُن کے قریب ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے مانگتا ہے (سورةالبقرة 186 ) اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :ترجمہ:دعا موٴمن کا ہتھیار،دین کا ستون اور آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، دعا مانگنے سے عاجز مت بنو ، اس لیے کے دعا کے ساتھ کوئی شخص ہلاک نہیں ہوسکتا (ابنِ حبان )دعا مانگنے سے تمام مصیبتیں ٹل جاتی ہے جیسے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ترجمہ :دعا ہر آئی ہوئی اور آنے والی مصیبت کے ازالے میں نافع ہوتی ہے ، پس اے اللہ کے بند و دعا کو لازم پکڑو ( ترمذی ) ایک جگہ توآپﷺ نے مکمل تصریح فرمائی ہے ترجمہ:جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے (ابن ماجہ ) ان تمام فرامین سے معلوم ہوا کہ دعااہم عبادت اور مہتم بالشان امرہے ،ہر قسم کی پریشانیوں،مصیبتوں اور آفتوں سے بچانے کااور اللہ کے قرب اور نزدیکی کو بڑھانے کا ذریعہ ہے اوردنیا و آخرت میں سر خ روئی اور سر بلندی کا سبب ہے ۔۔۔ لیکن آج المیہ یہ ہے کہ مسلمان دعا کی حقیقت سے واقف نہیں ہے ، رسمی رواجی طور پر چند رٹے ہوئے الفاظ دہرا کر منہ پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، اور اسی کو دعا سمجھتے ہیں ، حالاں کہ دعا ایک حقیقت رکھتی ہے ، کچھ شرائط و ضوابط چاہتی ہے اور چند آداب کا تقاضا کرتی ہے ، اگر اُن آداب کی رعایت کی جائے، اور دعا کرتے وقت ان کو عملی جامہ پہنایا جائے، تب دعا عند اللہ مقبول ہوگی اور اپنا اثر دکھلائی گی اور اگر اُن آداب کی رعایت کیے بغیر دعا مانگی جائے ،تو اس میں جان نہ ہوگی اور اس کے ذریعے حاجات پوری نہ ہوں گی ۔۔۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی دعا کے آداب کی رعایت کو لازم قرار دیتے ہوئے فرمایا ترجمہ:اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔۔۔ مومن بندہ جب عاجزی و انکساری کے ساتھ دل سے دعا کرتا ہے اگر کوئی چیز قبولیت دعا کے لیے مانع نہ ہو تو اس کو تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور ملتی ہے یا تو اس کی مانگی ہوئی مراد پوری کردی جاتی ہے یا اس کے ساتھ کوئی پیش آنے والی مصیبت ہٹادی جاتی ہے یا پھر آخرت میں اس کا کوئی اور بدل متعین کردیاجاتا ہے جو اس کو آخرت میں عطا کیا جائے گا، الحاصل مذکورہ حالت کی دعاء ضرور قبول کی جاتی ہےنبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں مانگتا اور جلد بازی نہیں مچاتا) کہا گیا ،اللہ کے رسولﷺجلد بازی مچانے سے کیا مراد ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا(وہ یہ کہنے لگ جائے کہ:میں نے بہت دعا کی ہے، انتہائی زیادہ دعائیں مانگیں ہیں، لیکن اللہ میری دعا قبول نہیں فرماتا، وہ یہ کہہ کر تھک ہار جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے)(صحیح مسلم حدیث نمبر 2736)لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دعا کی حقیقت کو سمجھے اور اس کے آداب سے واقفیت حاصل کرے اور ان آداب کی رعایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑائے، وہ ضرور سنے گا۔۔۔اب ہم دعا کے کچھ آداب اور دعا کرنے کا طریقہ آپ کو بتاتے ہیں جس پر عمل کر کے آپ اپنی دُعا کو باعث قبولیت بنا سکتے ہیںاس کے بعد اس پر ایک واقعہ سنائیں گے کہ اگر اللہ تعالی سے سچے دل سے دعا کی جائے تو وہ دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے ۔۔۔مزید تفصیل میں جانے سے پہلے اس ویڈیو کو لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارا چینل ضرور سبسکرائب کریں۔

اخلاص اور یقین کا ہونا :دعا گہرے اخلاص اور پاکیزہ نیت کے ساتھ مانگی جائے ، اپنی دعاوٴں کو نمود و نمائش ، ریا کاری اور شرک سے بے آمیز اورپاک رکھا جائے ، اور پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دعا مانگی جائے کہ وہ اللہ ہمارے حالات سے پورا واقف اور انتہائی مہربان ہے ، وہ اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے اور ان کی دعاوٴں کو قبول بھی فرماتا ہے ۔

خشوع و خضوع کا التزام کرنا: دعا کرتے وقت خشوع خضوع کو پیدا کرنا اور اپنے اوپر منت، سماجت اور رونے کی کیفیت کو ظاہر کرنا نہایت ضروری ہے ، چناں چہ سیدنا ابو بکرصدیق ؓکا فرمان ہے کہ اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے جیسے شکل ہی بنا لو ، رونے والی دعا رنگ لاتی ہے ، غزوہ بدر کے موقع پر حضوراکرم ﷺ کے پوری رات رونے نے کیا اثر دکھلایا کہ چھوٹی سی جماعت نے کفارمکہ کو شکست فاش دے دی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی ساری رات آہ وزاری نے دشمن کے بحری بیڑے کو غرق کردیا ، دعائیں آج ان صفات سے خالی ہیں۔۔۔دعا کرتے وقت ظاہر اور باطن کو پاک رکھنا اوردعا مانگتے وقت ظاہری آداب ،طہارت ،پاکیزگی کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے اور قلب کو بھی ناپاک جذبات ، گندے خیالات اور بے ہودہ معتقدات سے پاک رکھنا چاہیے۔

دعا دل سے مانگنی چاہیے ۔۔۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے ۔
بات جو دل سے نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے
پرَ نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اس لیے دعا کرتے وقت ہمہ تن متوجہ ہو کر دعا مانگنی چاہیے۔
دعا میں تنگ نظری نہ کرنی چاہیے:دعا میں تنگ نظری اور خود غرضی سے بھی بچنا چاہیے اور خدا کی عام رحمت کو محدود سمجھنے کی غلطی کر کے اس کے فیض و بخشش کو اپنے لیے خاص کرنے کی دعا نہ کرنی چاہیے۔۔۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مسجدِ نبوی میں ایک بدو آیا ، اس نے نماز پڑھی ، پھر دعا مانگی اور کہا اے خدا، مجھ پر اور محمدﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا، تو نے خدا کی وسیع رحمت کو تنگ کردیا(بخاری)
مسنون دعاوٴں کا اہتمام کرنا چاہیے:جو دعائیں حضور اکرمﷺ نے اپنی مبارک زبان سے مانگی ہیں، ان کا اہتمام کرنا چاہیے ، کہ ان دعاؤں نے قبولیت کے درواز ے دیکھ رکھے ہیں اور دعا عربی میں مانگنے کو ترجیح دی جائے ، دعا کے ساتھ ساتھ اسباب بھی اختیارکرنے چاہییں:صرف دعا پر اکتفا کرنا کہ اے اللہ مجھے گھر بیٹھے بیٹھے رزق دے دے اور پورا دن گھر میں پڑا رہے ، کوئی سبب اختیار نہ کرے ، تو ایسی دعا کہاں قبول ہوگی ؟ حضور اکرمﷺ غزوہ خندق میں بھوک کی وجہ سے نڈھال ہورہے تھے ، لیکن سبب اختیار کرنے ( کچھ سالن اور روٹی ملنے ) کے بعد آپﷺ نے برکت کی دعافرمائی، تب فورا ہی دعا پر اثرا ت مر تب ہوگئے ۔
دعا برابر مانگتے رہنا چاہیے:خدا کے حضور اپنی عاجزی ، احتیاج اور عبودیت کا اظہار خود ایک عبادت ہے، خدا نے خود دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بندہ جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی سنتا ہوں ، اس لیے دعا مانگنے سے کبھی نہ اکتائیے اور اس چکر میں کبھی نہ پڑیئے کہ دعاسے تقدیربدلے گی یا نہیں ، تقدیر کا بدلنا نہ بدلنا، دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا خدا کا کام ہے ، جو علیم و حکیم ہے ،بندے کا کام بہر حال یہ ہے کہ وہ ایک فقیر اور محتاج کی طرح برابر اس سے دعا کرتا رہے اور لمحہ بھر کے لیے بھی خو د کو بے نیاز نہ سمجھے ، نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعا کرنے میں عاجز ہو ( طبرانی ) اور نبی اکرمﷺ کافرمان ہے کہ جو شخص خدا سے دعا نہیں کرتا خدا اس پر غضب ناک ہو جاتا ہے ( ترمذی)
دعامیں بہ تکلف قافیہ بندی سے پرہیز کرنا چاہیے:دعا سادہ انداز میں مانگنی چاہیے ،بہ تکلف قافیہ بندی ، گانے اورسر ہلانے سے پرہیز کرنا چاہیے ، حضور اکرمﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور ایسی کیفیت کو نا پسند فرمایا ہے ۔
دعا کا درست طریقہ :باوضو ہو کر قبلہ رخ بیٹھا جائے ، خدا کو حاضر وناظر تصور کر لیا جائے ، دونوں ہاتھ اپنے سینے کے مقابل اٹھائے جائیں ، ہتھیلیاں آسمان کی طرف رکھی جائیں اور عاجزی کو اپنے اوپرمسلط کر کے نظریں نیچے رکھی جائیں ، پھر خدا تعالیٰ کی حمد و تعریف کی جائے اور درود شریف پڑھ کر پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی تمام حاجات رکھی جائیں اور پھر اپنے اقرباء ، رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کے لیے خوب دعا مانگی جائے ، اخیر میں درود شریف پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر لیا جائے اوریقین کرتے ہوئے اٹھے کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہوچکی ہوگی۔
دعا جلد قبول ہونے کاواقعہ:یہ واقعہ مجھے ایک بزرگ نے سنایا جو بہت اللہ والے بھی تھے۔۔۔ وہ آذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتے تھے اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے، اسی طرح جماعت ہونے سے پہلے کافی وقت انہیں تلاوت کیلئے مل جاتا۔۔۔آج بھی کچھ اسی طرح ہوا وہ مسجد میں تلاوت کر رہےتھے کہ ایک چھوٹا سا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا انہوںنے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا اور یہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہو گئے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا سا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا ان کی لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی بچےکی دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا ان کا دل چاہا کہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کیلئے اسے کچھ دے توانہوں نے بچے کو اپنے پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اسکو سو روپے کا نوٹ دیا بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کیا انہوں نے بچے سے پوچھا بیٹا اللہ سے کیا مانگ رہے تھے بچے نے مسکراتے ہوتا بولامیرا چاکلیٹ کھانے کو بہت دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ سے سو روپے مانگے تھے یہ کہہ کر چلا گیا بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتے رہے جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو انہیں یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سمجھا گیا تھاکاش کبھی ہم بھی ایسے ہی یقین سے اللہ سے مانگتے۔
دعا اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے مستفید ہونے کا اہم ذریعہ اور سبب ہے ، دعا میں وہ طاقت اور قوت ہے کہ جو لکھی ہوئی تقدیر کو تبدیل کر دیتی ہے ، آنے والے مصائب کو دور کر دیتی ہے ، مشکل حالات و بلیّات میں پھنسنے سے بچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب وتعلق کو بڑھاتی ہے ۔۔۔دعا اتنی مہتم بالشّان اور لابدی امر ہے کہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بارہا اس کے مانگنے کی تاکید فرمائی ہے اور نہ مانگنے والوں پر سخت نکیر، ناراضگی اور غضب کا اظہار فرمایا ہے چناں چہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:ترجمہ اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے پوچھیں تو میں اُن کے قریب ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے مانگتا ہے (سورةالبقرة 186 ) اور رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :ترجمہ:دعا موٴمن کا ہتھیار،دین کا ستون اور آسمانوں اور زمینوں کا نور ہے ، دعا مانگنے سے عاجز مت بنو ، اس لیے کے دعا کے ساتھ کوئی شخص ہلاک نہیں ہوسکتا (ابنِ حبان )دعا مانگنے سے تمام مصیبتیں ٹل جاتی ہے جیسے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ترجمہ :دعا ہر آئی ہوئی اور آنے والی مصیبت کے ازالے میں نافع ہوتی ہے ، پس اے اللہ کے بند و دعا کو لازم پکڑو ( ترمذی ) ایک جگہ توآپﷺ نے مکمل تصریح فرمائی ہے ترجمہ:جو شخص اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہوجاتا ہے (ابن ماجہ ) ان تمام فرامین سے معلوم ہوا کہ دعااہم عبادت اور مہتم بالشان امرہے ،ہر قسم کی پریشانیوں،مصیبتوں اور آفتوں سے بچانے کااور اللہ کے قرب اور نزدیکی کو بڑھانے کا ذریعہ ہے اوردنیا و آخرت میں سر خ روئی اور سر بلندی کا سبب ہے ۔۔۔ لیکن آج المیہ یہ ہے کہ مسلمان دعا کی حقیقت سے واقف نہیں ہے ، رسمی رواجی طور پر چند رٹے ہوئے الفاظ دہرا کر منہ پر ہاتھ پھیر لیتے ہیں ، اور اسی کو دعا سمجھتے ہیں ، حالاں کہ دعا ایک حقیقت رکھتی ہے ، کچھ شرائط و ضوابط چاہتی ہے اور چند آداب کا تقاضا کرتی ہے ، اگر اُن آداب کی رعایت کی جائے، اور دعا کرتے وقت ان کو عملی جامہ پہنایا جائے، تب دعا عند اللہ مقبول ہوگی اور اپنا اثر دکھلائی گی اور اگر اُن آداب کی رعایت کیے بغیر دعا مانگی جائے ،تو اس میں جان نہ ہوگی اور اس کے ذریعے حاجات پوری نہ ہوں گی ۔۔۔ حضور اکرم ﷺ نے بھی دعا کے آداب کی رعایت کو لازم قرار دیتے ہوئے فرمایا ترجمہ:اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا کو قبول نہیں فرماتا۔۔۔ مومن بندہ جب عاجزی و انکساری کے ساتھ دل سے دعا کرتا ہے اگر کوئی چیز قبولیت دعا کے لیے مانع نہ ہو تو اس کو تین چیزوں میں سے کوئی ایک ضرور ملتی ہے یا تو اس کی مانگی ہوئی مراد پوری کردی جاتی ہے یا اس کے ساتھ کوئی پیش آنے والی مصیبت ہٹادی جاتی ہے یا پھر آخرت میں اس کا کوئی اور بدل متعین کردیاجاتا ہے جو اس کو آخرت میں عطا کیا جائے گا، الحاصل مذکورہ حالت کی دعاء ضرور قبول کی جاتی ہےنبی اکرم ﷺ نے فرمایاکہ (بندے کی دعا اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے جب تک وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعا نہیں مانگتا اور جلد بازی نہیں مچاتا) کہا گیا ،اللہ کے رسولﷺجلد بازی مچانے سے کیا مراد ہے؟ تو آپﷺ نے فرمایا(وہ یہ کہنے لگ جائے کہ:میں نے بہت دعا کی ہے، انتہائی زیادہ دعائیں مانگیں ہیں، لیکن اللہ میری دعا قبول نہیں فرماتا، وہ یہ کہہ کر تھک ہار جاتا ہے اور دعا کرنا چھوڑ دیتا ہے)(صحیح مسلم حدیث نمبر 2736)لہٰذا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ دعا کی حقیقت کو سمجھے اور اس کے آداب سے واقفیت حاصل کرے اور ان آداب کی رعایت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑائے، وہ ضرور سنے گا۔۔۔اب ہم دعا کے کچھ آداب اور دعا کرنے کا طریقہ آپ کو بتاتے ہیں جس پر عمل کر کے آپ اپنی دُعا کو باعث قبولیت بنا سکتے ہیںاس کے بعد اس پر ایک واقعہ سنائیں گے کہ اگر اللہ تعالی سے سچے دل سے دعا کی جائے تو وہ دعا ضرور قبولیت کا شرف حاصل کرتی ہے ۔۔۔مزید تفصیل میں جانے سے پہلے اس ویڈیو کو لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارا چینل ضرور سبسکرائب کریں۔
اخلاص اور یقین کا ہونا :دعا گہرے اخلاص اور پاکیزہ نیت کے ساتھ مانگی جائے ، اپنی دعاوٴں کو نمود و نمائش ، ریا کاری اور شرک سے بے آمیز اورپاک رکھا جائے ، اور پورے یقین اور وثوق کے ساتھ دعا مانگی جائے کہ وہ اللہ ہمارے حالات سے پورا واقف اور انتہائی مہربان ہے ، وہ اپنے بندوں کی پکار کو سنتا ہے اور ان کی دعاوٴں کو قبول بھی فرماتا ہے ۔
خشوع و خضوع کا التزام کرنا: دعا کرتے وقت خشوع خضوع کو پیدا کرنا اور اپنے اوپر منت، سماجت اور رونے کی کیفیت کو ظاہر کرنا نہایت ضروری ہے ، چناں چہ سیدنا ابو بکرصدیق ؓکا فرمان ہے کہ اگر تمہیں رونا نہ آئے تو رونے جیسے شکل ہی بنا لو ، رونے والی دعا رنگ لاتی ہے ، غزوہ بدر کے موقع پر حضوراکرم ﷺ کے پوری رات رونے نے کیا اثر دکھلایا کہ چھوٹی سی جماعت نے کفارمکہ کو شکست فاش دے دی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی ساری رات آہ وزاری نے دشمن کے بحری بیڑے کو غرق کردیا ، دعائیں آج ان صفات سے خالی ہیں۔۔۔دعا کرتے وقت ظاہر اور باطن کو پاک رکھنا اوردعا مانگتے وقت ظاہری آداب ،طہارت ،پاکیزگی کا پورا پورا خیال رکھنا چاہیے اور قلب کو بھی ناپاک جذبات ، گندے خیالات اور بے ہودہ معتقدات سے پاک رکھنا چاہیے۔
دعا دل سے مانگنی چاہیے ۔۔۔شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کیا خوب کہا ہے ۔
بات جو دل سے نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے
پرَ نہیں، طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے
اس لیے دعا کرتے وقت ہمہ تن متوجہ ہو کر دعا مانگنی چاہیے۔
دعا میں تنگ نظری نہ کرنی چاہیے:دعا میں تنگ نظری اور خود غرضی سے بھی بچنا چاہیے اور خدا کی عام رحمت کو محدود سمجھنے کی غلطی کر کے اس کے فیض و بخشش کو اپنے لیے خاص کرنے کی دعا نہ کرنی چاہیے۔۔۔حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ مسجدِ نبوی میں ایک بدو آیا ، اس نے نماز پڑھی ، پھر دعا مانگی اور کہا اے خدا، مجھ پر اور محمدﷺ پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ فرما ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا، تو نے خدا کی وسیع رحمت کو تنگ کردیا(بخاری)
مسنون دعاوٴں کا اہتمام کرنا چاہیے:جو دعائیں حضور اکرمﷺ نے اپنی مبارک زبان سے مانگی ہیں، ان کا اہتمام کرنا چاہیے ، کہ ان دعاؤں نے قبولیت کے درواز ے دیکھ رکھے ہیں اور دعا عربی میں مانگنے کو ترجیح دی جائے ، دعا کے ساتھ ساتھ اسباب بھی اختیارکرنے چاہییں:صرف دعا پر اکتفا کرنا کہ اے اللہ مجھے گھر بیٹھے بیٹھے رزق دے دے اور پورا دن گھر میں پڑا رہے ، کوئی سبب اختیار نہ کرے ، تو ایسی دعا کہاں قبول ہوگی ؟ حضور اکرمﷺ غزوہ خندق میں بھوک کی وجہ سے نڈھال ہورہے تھے ، لیکن سبب اختیار کرنے ( کچھ سالن اور روٹی ملنے ) کے بعد آپﷺ نے برکت کی دعافرمائی، تب فورا ہی دعا پر اثرا ت مر تب ہوگئے ۔
دعا برابر مانگتے رہنا چاہیے:خدا کے حضور اپنی عاجزی ، احتیاج اور عبودیت کا اظہار خود ایک عبادت ہے، خدا نے خود دعا کرنے کا حکم دیا ہے اور فرمایا ہے کہ بندہ جب مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی سنتا ہوں ، اس لیے دعا مانگنے سے کبھی نہ اکتائیے اور اس چکر میں کبھی نہ پڑیئے کہ دعاسے تقدیربدلے گی یا نہیں ، تقدیر کا بدلنا نہ بدلنا، دعا کا قبول کرنا یا نہ کرنا خدا کا کام ہے ، جو علیم و حکیم ہے ،بندے کا کام بہر حال یہ ہے کہ وہ ایک فقیر اور محتاج کی طرح برابر اس سے دعا کرتا رہے اور لمحہ بھر کے لیے بھی خو د کو بے نیاز نہ سمجھے ، نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے کہ سب سے بڑا عاجز وہ ہے جو دعا کرنے میں عاجز ہو ( طبرانی ) اور نبی اکرمﷺ کافرمان ہے کہ جو شخص خدا سے دعا نہیں کرتا خدا اس پر غضب ناک ہو جاتا ہے ( ترمذی)
دعامیں بہ تکلف قافیہ بندی سے پرہیز کرنا چاہیے:دعا سادہ انداز میں مانگنی چاہیے ،بہ تکلف قافیہ بندی ، گانے اورسر ہلانے سے پرہیز کرنا چاہیے ، حضور اکرمﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے اور ایسی کیفیت کو نا پسند فرمایا ہے ۔
دعا کا درست طریقہ :باوضو ہو کر قبلہ رخ بیٹھا جائے ، خدا کو حاضر وناظر تصور کر لیا جائے ، دونوں ہاتھ اپنے سینے کے مقابل اٹھائے جائیں ، ہتھیلیاں آسمان کی طرف رکھی جائیں اور عاجزی کو اپنے اوپرمسلط کر کے نظریں نیچے رکھی جائیں ، پھر خدا تعالیٰ کی حمد و تعریف کی جائے اور درود شریف پڑھ کر پہلے اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی جائے ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی تمام حاجات رکھی جائیں اور پھر اپنے اقرباء ، رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں کے لیے خوب دعا مانگی جائے ، اخیر میں درود شریف پڑھ کر منہ پر ہاتھ پھیر لیا جائے اوریقین کرتے ہوئے اٹھے کہ یہ دعا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ضرور قبول ہوچکی ہوگی۔
دعا جلد قبول ہونے کاواقعہ:یہ واقعہ مجھے ایک بزرگ نے سنایا جو بہت اللہ والے بھی تھے۔۔۔ وہ آذان سے کافی پہلے مسجد میں آ جاتے تھے اور وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت شروع کر دیتے، اسی طرح جماعت ہونے سے پہلے کافی وقت انہیں تلاوت کیلئے مل جاتا۔۔۔آج بھی کچھ اسی طرح ہوا وہ مسجد میں تلاوت کر رہےتھے کہ ایک چھوٹا سا بچہ مسجد میں داخل ہوا اور ہاتھ منہ دھو کر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھ گیا انہوںنے مسکرا کر بچے کی طرف دیکھا بچے نے بھی مسکراہٹ سے جواب دیا اور یہ سر جھکا کر پھر تلاوت میں مشغول ہو گئے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد تلاوت کے دوران انہوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ چھوٹا سا بچہ اپنے ننھے ہاتھ اٹھا کر آنکھیں بند کر کے دعا مانگ رہا تھا ان کی لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی بچےکی دعا مانگنے کا انداز اتنا پیارا تھا کہ وہ بے ساختہ قرآن مجید بند کر کے اسے دیکھنے لگے۔۔۔ تھوڑی دیر بعد اس بچے نے دعا ختم کی اور باہر جانے لگا ان کا دل چاہا کہ اس بچے کی حوصلہ افزائی کیلئے اسے کچھ دے توانہوں نے بچے کو اپنے پاس بلایا اور سر پر ہاتھ پھیر کر اسکو سو روپے کا نوٹ دیا بچے نے تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد وہ نوٹ قبول کیا انہوں نے بچے سے پوچھا بیٹا اللہ سے کیا مانگ رہے تھے بچے نے مسکراتے ہوتا بولامیرا چاکلیٹ کھانے کو بہت دل کر رہا تھا تو میں نے اللہ سے سو روپے مانگے تھے یہ کہہ کر چلا گیا بچے کے جانے کے بعد بھی وہ اسی سمت دیکھتے رہے جس طرف وہ بچہ گیا تھا جو انہیں یقین اور اخلاص سے دعا مانگنے کا ایک طریقہ سمجھا گیا تھاکاش کبھی ہم بھی ایسے ہی یقین سے اللہ سے مانگتے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here