عصر کے بعد صرف ایک تسبیح

ہر انسان چاہتا ہے کہ ا سکی مانگی گئی ہر دعا قبول ہواور وہ ہر خواہش وہ چیز حاصل کر لیں جس کی اسے بے حد تمنا ہیں۔اکثر والدین اولاد کی وجہ سے پریشان ہوتے ہیں ہ اولاد سکول نہیں جاتی۔کہنا نہیں مانتی۔پڑھائی نہیں کرتی۔کچھ اپنے خاوند کی وجہ سے پریشان ہوتی ہیں دنیا میں ہر کوئی انسان کسی نہ کسی پریشانی میں ضرور مبتلا ہوتا ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ ان پریشانیوں کو اپنے رب کے سامنے پیش کریں۔اور اللہ سے دعا مانگیں۔اللہ پاک ان کی دعائوں کو اور ان کی پریشانیوں کو ختم فرمادیں۔یعنی جو جائز دعا اللہ پاک سے مانگی جاتی ہیں ۔اللہ پاک اس کو ضرور قبول فرما دیتے ہیں ۔ کچھ کلمات ایسے ہیں جن کو پڑھ کر پورےدل اور یقین کے ساتھ مانگی جائےتو اللہ اس ضرورت مند کی صدا ضرور سنتے ہیں اور اس کو عطا بھی فرماتے ہیں ۔تو اس لئے آج میں آپ کو ایک ایسا وظیفہ بتانا چاہتا ہو ں۔جس سے آپ جب کبھی بھی جائز دعا مانگنے سے پہلے خلوص اور نیت سے پڑھ لیں گے تو انشاءاللہ اللہ پاک کے بارگاہ میں ضرور قبول ہوگی۔آپ نے نماز عصر ادا کرنے کے بعداول اور آکر تین مرتبہ درودِابراہیمی آپ نے پڑھنی ہے۔پھر اس کے بعد سو مرتبہ یَا رَحْمٰنُ آپ نے پڑھنا ہے۔پڑھ کے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا مانگنی ہے ۔انشاءاللہ اس عمل کی وجہ سے دنیا اور آخرت کی آپ کی جو بھی جائز حاجات ہے۔جو بھی آپ کی جائز خواہشات ہیںاللہ پاک وہ ضرور پوری فرمادیںنگے۔دوبارہ سے آپ کو عمل بتانا چاہتا ہوں ۔کہ نماز عصر ادا کرنے کے بعد اسی جگہ جائے نماز پر بیٹھ کر تین مرتبہ اول و آخر درودِابراہیمی پڑھیں ۔پھر اس کے بعد سو مرتبہ یَا رَحْمٰنُ آپ پڑھ کےآپ نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ اللہ رب العزت سے دعا مانگیںانشاللہ آپ کے دل میں جو بھی جو کچھ بھی دعا ہے اللہ پاک آپ کی دعا کو ضرور پوری فرمائیں گے۔ اور آخر میں میں ان تمام بہنوں اور بھائیوں سے گزارش کرتا ہو ںکہ جو اللہ پاک سے دنیا ہی مانگتے ہیں دنیا کی ہی فلاح اور دنیا کی ہی چیزیں مانگتے ہیں تو ان سے میں آپ سے گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ پچھلے دن ایک فوتگی ہوئی تو قبر میں تد فین کرکے شام کا وقت جب واپس پلٹے ۔ تو میں واپس اپنے گھر آکر بیٹھ گیا۔اور سوچنے لگا اور شر سے تعلق تھا تو عشاء کی نماز کے بعد نیند نہیں آرہی تھی تو کافی دیر تک مغفرت کی دعا میں مشغول رہا۔ جب پچھلا پہر ہوا تو میرے دل میںایک بات آئی اور مجھے دو تین دن تک اس بات نے تڑپائے رکھا ۔میں کہا کہ بیٹے نے انٹرویو دینا ہو نا تو اس کو انٹرویوپر بھیج کر ماں باپ مسلّے بھی بچھاتے ہیں اور ماں باپ دعائیں بھی کرواتے ہیں ار ہمیں بھی فون کرتے ہیں لیکن اس کے ما باپ نے مجھے فون نہیں کیا کہ بیٹے سخت انٹرویو اس سے لیا جائے گا کہ دعا کرنا ۔یعنی ہماری آخرت کے معاملے مٰں جو ترجیح ہے وہ اب نہیں رہی۔ بیٹا یا بیٹی یا عزیز قبر میں اتر جائے تو اس کے نارے میں ہم کبھی فکر مند نہیں ہوتے ۔جو اس کے دنیا کے معاملات میں ہماری فکر ہوتی ہیں اور اس کو ذرا آپ میرے لئے قابلِ احترام ہے۔اس کے لئے ذرا ، تھوڑا سا کبھی آپ سوچے۔ایسا ہی نہیں ہے ۔تو ما باپ کو جہاں اولاد کے اچھے مستقبل کی فکر ہونی چاہیے۔کہ اس کا مستقبل ٹھیک ہوجائے ۔اور مستقبل سے مرا د اس کی دنیاوی زندگی کے آخری ایام۔ کبھی اس کی زندگی کے مستقبل کا آخرت کا مستقبل بھی سوچنا چاہیے۔بچہ اگر سکول میں نہ جائے تو ما باپ کو پریشانی ہو جاتی ہیں اور تعویز بھی کرواتے ہیں دعائیں بھی منگواتے ہیں اور وظائف بھی کرتے ہیں۔کہ بچہ دل نہیں لگا رہا کتنے دن ہو گئے بچہ سکول نہیں جا رہا ۔ماں کا چین لٹ گیا باپ کا چین لٹ گیا ۔مسجد میں اگر نماز پڑھنے نہ جائے ۔کیا ماں باپ کو اتنی ہی تکلیف ہوتی ہیں اتنی ہی پریشانی ہوتی ہیں ۔اگر اتنی ہی پریشانی ہوتی ہے تو وہ پھر بہت مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ ویسے ہونی بہت زیادہ چاہیے اگر نہیں ہوتی تو پھر سوچنا ہوگا کہ ہم نے کس کو ترجیح دی ۔ہم صبح سکول میں بھیجتے ہیں نا بچے کو کتنا تیار کرتے ہیں ۔نئے کپڑے ،جوتے پالش کرکے،ماں کتنے جتن کرتی ہیں اور صبح جب بچے کو مسجد میں بھیجنا ہوتا ہے۔تو بستر سے اٹھا ک بچے کو اور اس کی گردن پر تپکی مارتے ہیں اور کہتے ہیں چل مسجد میں اوراس کی ناک بھی بہہ رہی ہوتی ہیں کپڑے بھی گندے ہوتے ہیں عجیب حالت میں اس کو مسجد میں بھیج دیتے ہیں۔اللہ کے قران پڑھنے کےلئے بھیجا ہے جس کو بغیر وضو کے ہاتھ بھی نہیں لگا سکتے ۔تو ہم نے کس حالت میں بھیج دیا ۔ اور جب سکول بھیجا تو کس حالت میں بھیجا ۔میں یہ نہیں کہتا کہ آپ بچوں کو سکول میں داخل نہ کرو ۔صفائی ستھرائی دین کا حصہ ہیں ۔لیکن جب قران مجید پڑھے کے لئےتم نے بھیجا تو یہی اہتمام تمہیں کرنا چاہیے تھا ۔
وَمَا قَدَرُواللّٰہُ الْحَقَّ قَدْرِہِ[اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے جو اللہ کی قدر کا حق ہیں وہ ادا ہی نہیں کیا۔
ذرا میں اور آپ غور تو کریں صبح سے لے کر شام تک شام سے لے کر صبح تک کس مقصد کے لئے زندگی گزار رہے ہیں ۔ہم یہ نہیں کہتے کہ دنیا کے لئے کاروبار نہ کرو لیکن جہاں جتنا رہنا ہیں وہا ں اتنی محنت کریں ۔دس دن کے لئے آپ سفر پر جاتے ہیں آپ دوسری جگہ کہیں جاتے ہیں تو جہاں دس دن رہنا ہو وہاں آپ کوئی کوٹھی تو نہیں خریدتے وہاں ہوٹل کا ایک کمرہ کرائے پر لیاجاتا ہے یہاں ایک کوٹھی خرید لینا کہا دس دن تو میں نے یہاں رہنا ہے تو جہاں دس دن رہنا ہو وہاں مکان کرائے پر لیا جاتا ہے ۔جہاں ہمیشہ ہی رہےزندگی کا خاتمہ ہی نہیںنقطہ انجام ہی نہیں زندگی ختم ہی نہیں ہوتی ۔ تو کبھی سوچا کہ اس کے بارے میں کیا بنایا ہے۔
اللہ پاک فرماتے ہیں ؛اے ایمان والوں اللہ سے ڈرو ۔اور اگر ہر انسان یہ سوچے کہ اس نے آنے وال کل کے لئےآگے کیا کیا ہیں یہ ساری زندگی کتنی ہیں پچاس سال کی سو سال کی لگا لیں لیکن حشر کا ایک دن پچاس ہزار سال کا ہوگا ۔پطاس سال کا نہیں پچاس سو سال کا نہیں پچاس ہزار سال کا ایک دن ہو گا پہلا دن ہو گا اور پھر موت کو مینڈھے کی شکل میں لا کر ذبح کر دیا جائے گا ۔موت کو بھی موت آجائے گی ۔اب ایسی زندگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی اُس زندگی کو تباہ کرلیں اور اِس زندگی کو سنوار لیں اس سے بڑی نادانی اور کیا ہو سکتی ہیں ۔ اس دن کو جٹلا دیا ایک تو ہیں زبان سے جٹلانا کہ میں نہیں آخرت کو مانتا ایک ہے اپنے عمل اور اپنے رویےسے آخرت کا انکار کرنا ۔اپنے اندازمعاشرت سے آخرت کا انکار کرنا ۔میں اور آپ دیکھے کہ ہمارا جس طرح کا رویہ ہے زندی گزارنے کا کیا ہمارا عمل ہمارے کردار ہمرے شب و روز ہماری زندگی کے اندراعمال آخرت کو نہیں جٹلا رہے۔جو کچھ ہے اس دیا کے لئے ہیں آخرت کے لئے کبھی کچھ تیاری ہم نے نہیں کی آخرت کے حوالے سے کبھی اپنے بیٹے کی فکر مندی نہیں کی۔ آخرت کی بھی ضرور فکر کرو میرے دوستوں میری بہنوں اور میرے بھائیوں جہاں آپ کو دنیا کی معاملات میں اپنی اولاد کی اپنی ارد گرد معاشرے کی اپنی فکر ہوتی ہیں وہاں اپنی آخرت کی بھی فکر کریں آپ میرے لئے قابل احترام ہے ۔اگر میری کوئی بات آپ کے دل پر لگی ہو تو اس کے لئے میں معذرت چاہتا ہوں ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here